خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 821 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 821

خطبات ناصر جلد اوّل ۸۲۱ خطبه جمعه ۲۵ را گست ۱۹۶۷ء میں بھی بعض منذر حصے تھے لیکن بہر حال تمام خواب انجام بخیر بھی بتا رہے تھے۔ہاں ان سے یہ ضرور ظاہر ہوتا تھا کہ واپسی پر کچھ تکالیف اور پریشانیاں بھی ہونگی۔چنانچہ کراچی میں میری ایک بچی رہتی ہے۔بعض کاموں کی وجہ سے وہ ایروڈ رام پر نہیں آسکتی تھی۔جس دن ہم نے کراچی میں لینڈ کرنا تھا اس دن اسکی طبیعت بہت گھبرائی ہوئی تھی۔وہ بے چین تھی کہ جلدی آئیں اور ملیں۔ایروڈرام والوں نے انہیں کہا کہ آج اتنی تیز بارش ہو رہی ہے کہ اگر یہی حالت رہی تو ہم ہوائی جہاز کو یہاں اُترنے کی اجازت نہیں دیں گے۔بلکہ وہ سیدھا لا ہور چلا جائے گا۔وہاں جن لوگوں کو اس بات کا پتہ لگا ان کو بھی پریشانی ہوئی۔عملاً جہاز والوں نے ہمیں یہ اطلاع دی کہ بیلٹ کس لیں دو ایک منٹ میں جہاز اُترنے والا ہے۔اس کے بعد نہیں منٹ تک وہ جہاز او پر اُڑ تا رہا اور کراچی شہر بھی پیچھے رہ گیا۔میرے اندازہ کے مطابق ہم تیس چالیس میل کے قریب کراچی سے آگے نکل گئے۔پھر اس نے چکر لگایا اور واپس کراچی آکر وہ اُترا۔یہ بھی ایک قسم کی پریشانی ہی تھی۔پھر سامان وغیرہ کی وجہ سے کچھ پریشانی ہوئی۔بہر حال انجام بخیر ہوا اور ہم خوش تھے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر یہ پریشانیاں ٹل گئیں۔اللہ تعالیٰ فضل کرنے والا ہے۔دعا ئیں بھی جماعت نے بہت کیں اور ہم کو بھی اللہ تعالیٰ نے بہت دعائیں کرنے کی توفیق دی اور وہ بڑی قدرتوں والی ہستی ہے جب وہ اس قسم کی چیز انسان کے علم میں لاتا ہے تو اس کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ دعا ئیں کرو میری قدرت کوا پیل کرو اور عرش تک اپنے نالوں کو پہنچاؤ۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔جس وقت ہم یورپ گئے اس وقت ہمارا یہ راستہ تھا۔پہلے فرینکفورٹ پھر زیورک پھر ہیگ پھر ہیمبرگ۔پھر کوپن ہیگن اور پھر لنڈن اور گلاسگو۔زیورک میں ایک دن صبح میری آنکھ کھلی تو میری زبان پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام تھا۔مُبَارِكَ وَ مُبَارَكَ وَكُلُّ أَمْرِ مُبَارَكِ يُجْعَلُ فِيْهِ - یہ الہام اخبار الفضل میں بھی چھپ چکا ہے۔اس سے دوسرے دن تین بجے کے قریب میری آنکھ کھلی اور میری زبان پر قرآن کریم کی ایک آیت تھی اور ساتھ ہی مجھے اس کی ایک ایسی تعبیر بھی بتائی گئی جو بظاہر انسان ان الفاظ سے نہیں نکال سکتا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ تعبیر مجھے اللہ تعالیٰ