خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 820
خطبات ناصر جلد اوّل صرف دو کا انتخاب کیا۔۸۲۰ خطبه جمعه ۲۵ اگست ۱۹۶۷ء اب ایک دوسری خواب ہے جو ان واقعات کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو وہاں ہونے تھے۔یعنی اس سفر کے نتیجہ کے متعلق ہے جو کسی کے خیال میں بھی نہیں آسکتا اور وہ یہ ہے کہ ایک دوست لکھتے ہیں کہ خاکسار نے ۶۷۔۸۔۶ کو خواب میں دیکھا کہ حضرت اماں جان سیدہ نصرت جہاں بیگم کے ہاتھ میں اسلام کی فتح کا جھنڈا ہے۔اس کے نچلے حصہ میں (جو پکڑنے کی جگہ ہے ) انگریزی ہندسوں میں 1412 لکھا ہے اور آپ کو ( یعنی مجھے ) فرماتی ہیں کہ ان دوستوں کے نام شکریہ کی چھٹیاں لکھ دیں جنہوں نے فتح کے نزدیک لانے میں مدددی ہے۔غرض ہمارے سارے سفر کا جو انجام ہے وہ اس رویا میں دکھایا گیا ہے اور وقت کی تعیین ۲۵ سال کی گئی ہے اور میں نے بھی یورپین اقوام کو یہی کہا تھا کہ تیس سال کے اندراندر ایک عظیم روحانی انقلاب رونما ہونے والا ہے۔گو یہ بات الفضل میں بھی غلط چھپ گئی ہے اور وہاں کے بعض اخباروں نے بھی میری اس بات کو غلط طور پر شائع کر دیا تھا۔میں نے جو انہیں تنبیہ کی تھی اس میں جس زمانہ کی تعیین کی تھی وہ ۳۰ سال نہیں تھا یعنی میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ جس عظیم تباہی کے متعلق میں کہہ رہا ہوں وہ تیس سال کے بعد آئے گی بلکہ میں نے یہ کہا تھا نہیں تیس سال کے اندر اندر تم لوگ مجبور ہو جاؤ گے کہ اسلام کی طرف جھکو اور اسے قبول کر دیا پھر تباہ کر دئے جاؤ۔تمہارے لئے اب ان دو راستوں کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔یا تو تمہارے لئے تباہی کا راستہ ہے یا پھر اسلام کا صراط مستقیم ہے ان کے سوا اور کوئی تیسرا راستہ تمہارے لئے ممکن ہی نہیں ہے اور آگے اپنے وقت پر جا کر میں آپ کو بتاؤں گا کہ میں نے کس رنگ میں اور کس تمہید کے بعد کسی وضاحت کے ساتھ اور کس زور کے ساتھ یہ باتیں ان کے ذہن نشین کروائیں اور اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ اخباروں نے ان باتوں کو لیا اور سارے ملک میں پھیلا دیا۔براڈ کاسٹ ٹیلی ویژن پر بھی آگیا اور یہ اپنی جگہ ایک علیحدہ مضمون ہے جب میں اس حصہ میں داخل ہوں گا تو اس کے متعلق بتاؤں گا۔بہر حال دوستوں نے سینکڑوں نہیں تو بیبیوں کی تعداد میں ( یقینا سو سے اوپر ہی ہیں ) مبشر خواہیں دیکھیں جن میں سے بعض میں کچھ منذر حصے بھی ہیں۔جہاں تک مجھے یاد ہے میری اپنی خوابوں