خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 814
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۱۴ خطبه جمعه ۲۵ را گست ۱۹۶۷ء دوست کی خواب پڑھی تو میری توجہ اللہ تعالیٰ نے اس طرف پھیری کہ اس سفر کے دوران بہت سی بشارتیں ملیں گی اور دوسرے یہ کہ مجھے ان بشارتوں کا ذکر جماعت کے سامنے کر دینا چاہیے۔کیونکہ جب تک بشارتیں نہ ملیں اور ان کا ذکر بھی جماعت کے سامنے نہ کیا جائے۔معترض اعتراض نہیں کر سکتا۔یعنی اگر بشارت ہی کوئی نہ ملے تو اس قسم کا اعتراض کرنے والا ذہن سوچ ہی نہیں سکتا۔اگر بشارتیں ملیں اور انکا ذکر نہ کیا جائے۔تب بھی یہی حال ہے۔پس اس دوست کی اس خواب سے میں ایک طرف بہت خوش ہوا کہ اللہ تعالیٰ بہت سی بشارتوں کے سامان پیدا کرے گا اور حاسد کے لئے حسد کے سامان بھی بہت سے پیدا کرے گا اور دوسری طرف میں نے خیال کیا کہ مجھے خاموش نہیں رہنا چاہیے بلکہ جماعت کے سامنے ان باتوں کا ذکر کر دینا چاہیے۔اس رؤیا کے بتانے کے بعد اب میں اپنی وہ رو یا بتا تا ہوں جو روانگی سے چند روز قبل میں نے دیکھا۔جس وقت تحریک جدید کی طرف سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا کہ کوپن ہیگن کی مسجد کا افتتاح میں خود وہاں جا کر کروں اور دراصل یہ وہاں کی جماعت کی خواہش تھی جو انہوں نے مجھ تک پہنچائی تھی اور جب یورپ کے دوسرے مشنوں کو معلوم ہوا کہ میں مسجد کے افتتاح کے لئے کو پن ہیگن آرہا ہوں تو وہاں سے مطالبے آنے شروع ہوئے کہ اگر آپ ڈنمارک آئیں تو ہمارے مشن میں بھی آئیں چنانچہ یہ پروگرام بنا کہ اگر جائیں تو یورپ کے سارے مشنوں کا دورہ بھی کریں۔لیکن میرے دل میں پورہ انشراح پیدا نہیں ہوا تھا اور تحریک مطالبہ کر رہی تھی کہ کافی وقت پہلے ان کو اطلاع دینی چاہیے تا وہاں انتظامات ہوسکیں۔اس پر میں نے انہیں کہا کہ ان سے یہ کہہ دیا جائے کہ وہ اپنی طرف سے پوری تیاری کر لیں۔تا کہ اگر جانے کا پروگرام بنے تو ان کو کوئی دقت پیش نہ آئے لیکن اپنے ذہن میں یہ بھی رکھیں کہ ضروری نہیں کہ میں اس سفر کو اختیار کروں تا کہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مایوس نہ ہوں۔غرض یہ مشروط پروگرام ان کو دیا گیا اور یہاں میں نے جماعت میں دعا کے لئے تحریک کی۔بعض دوستوں کو خاص طور پر خطوط لکھوائے اور بعض کو کہلوا کے بھیجا۔دوستوں نے بھی بڑی دعائیں کیں اور میں بھی اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق دعائیں کرتا رہا۔اللہ تعالیٰ نے بہت دعائیں کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔لیکن پورا انشراح