خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 813
خطبات ناصر جلد اول ۸۱۳ خطبه جمعه ۲۵ اگست ۱۹۶۷ء صرف اسلام ہی دنیا کو ہولناک تباہی سے بچا سکتا ہے خطبه جمعه فرموده ۲۵/اگست ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔احباب جماعت اور اس عاجز بندے پر اللہ تعالی کے فضل کی بارش اور اس کی رحمت کے نشانات اُترتے دیکھ کر دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے معمور ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے سارے سمندر محبت اور حمد اور تعریف کا پیراہن پہن کر اس چھوٹے سے دل میں سما گئے ہیں اور خدا کی حمد چاروں طرف بڑی موجوں کی شکل میں ابھر رہی اور موجزن ہے۔اللہ تعالیٰ نے (جیسا کہ اس نے اس سفر سے قبل خود بتایا تھا ) اس سفر کو محض اپنے فضل سے اسلام کے لئے بہت ہی بابرکت ثابت کیا ہے۔قبل اس کے کہ میں اپنی وہ رو یا بیان کروں جو میں نے جانے سے قبل دیکھی تھی میں ایک اور دوست کی رؤیا بیان کرنا چاہتا ہوں۔ایک دوست نے مجھے لکھا ( مجھے یاد نہیں رہا کہ روانگی سے چند روز قبل یا روانہ ہونے کے بعد چند روز کے اندر اندر مجھے یہ خط ملا تھا ) کہ میں نے رویا میں دیکھا ہے کہ کچھ مخالفت ہو رہی ہے بیرونی بھی اور اندرونی بھی۔اور بعض معترض یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ رویا اور خواب بہت سنانے لگ گیا ہے۔اس خواب کی دو تعبیر میں میرے ذہن میں آئیں جن میں سے ایک کا ذکر میں اپنی کراچی والی تقریر میں کر چکا ہوں اور ہر دو کا ذکر اس وقت یہاں کرنا چاہتا ہوں۔جب میں نے اپنے اس