خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 815 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 815

خطبات ناصر جلد اول ۸۱۵ خطبه جمعه ۲۵ را گست ۱۹۶۷ء نہیں ہو رہا تھا۔بہت سے دوستوں نے مبشر خوا میں بھی دیکھیں بعض نے بشارتوں کیساتھ بعض منذر حصے بھی دیکھے۔خود میں نے دو تین خوا ہیں ایسی دیکھیں جن میں مجھے یہ بتایا گیا تھا کہ واپسی پر کچھ بدمزگی وغیرہ پیدا ہوگی یا کوئی خطرہ پیش آئے گا۔لیکن وہ سارے نظارے واپسی کے تھے جس میں یہ اشارہ پایا جاتا تھا کہ سفر کے لئے روانگی ہوگی کیونکہ روانگی کے بغیر واپسی نہیں ہوا کرتی۔لیکن پھر بھی طبیعت میں پورا انشراح نہیں تھا۔تب قریباً آٹھ دس روز پہلے میں نے اپنے رب کے عظیم نور کا ایک حسین نظارہ دیکھا۔میں نے رویا میں دیکھا کہ ہم قادیان میں ہیں اور عرفانی صاحب کے مکان میں کوئی تقریب ہے جس میں مجھے اور منصورہ بیگم کو بھی بلایا گیا ہے اور وہ تقریب عصر کے بعد ہے چنانچہ اس کے لئے ہم روانہ ہوئے۔ہم حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے مکانوں میں سے گزر کر اس گلی میں سے گزرے جو اس چوک میں داخل ہوتی ہے جہاں ڈاکٹر احسان علی صاحب کی دوکان تھی اور وہیں سے بائیں طرف الحکم سٹریٹ میں داخل ہو جاتی ہے۔ہم بھی اس چوک سے ہو کر الحکم سٹریٹ میں داخل ہوئے۔ہمارے ساتھ کچھ اور آدمی بھی ہیں (وہی قادیان کا نظارہ ہے۔جس کی اینٹ اینٹ ہمیں یاد ہے اور ہم اسے کبھی نہیں بھول سکتے ) بہر حال ہم عرفانی صاحب کے مکان پر آئے۔اس مکان کا فرنٹ بالکل وہی تھا جو پہلے تھا وہی چھوٹا سا دروازہ جو اس کا ہوا کرتا تھا ہم اس دروازے میں سے داخل ہوتے ہیں۔لیکن جب میں اس گھر میں داخل ہوتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ عرفانی صاحب کا مکان نہیں بلکہ وہ ایک بہت بڑے قلعے کا دروازہ ہے۔جس میں سے ایک وقت میں پانچ سات کارمیں گزر سکتی ہیں غرض وہ اتنا بڑا دروازہ ہے۔اس دروازے میں سے گزر کر ہم صحن میں آئے۔پرانے قلعوں کے دروازے خالی دروازے نہیں ہوتے تھے۔بلکہ قلعہ کا دروازہ ایک کمرہ کے اندر کھلتا تھا۔اور پھر اس کمرہ کا دروازہ آگے صحن میں کھلتا تھا۔بہر حال اس قلعہ کا بہت بڑا انٹرنس ہال ہے جس میں ہم داخل ہوئے ہیں اور جو صحن ہے وہ اس طرح کا ہے جیسے کوئی ٹیلہ ہو اور نہایت خوبصورت سبزہ اس پر اُگا ہوا ہے اور پھول بھی ہیں۔پھر خوب سجایا گیا ہے۔اور وہ قلعہ کا باغیچہ جو ایک ٹیلہ پر ہے اس طرح ہے کہ سامنے کی طرف اور ہر دو پہلوؤں کی طرف کچھ سلوپ اور ڈھلوان ہے مجھے یاد نہیں اور نہ ہی خواب میں مجھے پتہ لگا کہ