خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 761 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 761

خطبات ناصر جلد اول ۷۶۱ خطبہ جمعہ ۲۳ / جون ۱۹۶۷ء ان تک پہنچانا اس سفر کی غرض ہے اور یہی ایک مقصد ہے تو اللہ تعالیٰ اگر توفیق دے تو ایسے رنگ میں ان کو پیغام پہنچادیا جائے کہ ان پر اتمام حجت ہو جائے کیونکہ جب تک کسی قوم پر اتمام حجت نہ ہو وہ انذاری پیشگوئیاں پوری نہیں ہوا کرتیں جو ان کے انکار کی وجہ سے ان کے حق میں خدا تعالیٰ نے قبل از وقت اپنے رسول کو دی ہوں۔تو خدا کرے کہ وہ انذار وہ تنبیہ وہ جھنجھوڑ نا میرے لئے ممکن ہو جائے یعنی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کا پہنچانا صحیح رنگ میں اور موثر طریق پر ممکن ہو جائے تا کہ یا تو وہ اسلام کی طرف مائل ہوں ایک خدا کو ماننے لگیں ، تو حید کو پہچاننے لگیں ، اللہ تعالیٰ کو ایک اپنی ذات میں اور ایک اپنی صفات میں سمجھنے لگیں ، جس رنگ میں کہ اسلام نے اللہ تعالیٰ کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور یا پھر ایسے رنگ میں ان پر اتمام حجت ہو جائے کہ وہ انداری پیشگوئیاں جن کو پڑھ کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں اور جن کا تعلق تمام منکرین اسلام سے ہے اور جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی ہیں، وہ اتمام حجت کے بعد ان کے حق میں پوری ہوں تا اسلام اور مذاہب عالم کے درمیان جو فیصلہ ہونا مقدر ہے وہ جلد ہو جائے اور دنیا یا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمت کے سائے میں آ کر بچ جائے یا خدائی قہر کی تپش میں جا کر ہلاک ہو جائے اور اس قضیہ کا فیصلہ ہماری زندگی میں ہی ہو جائے کہ اسلام ہی سچا مذہب ہے۔پھر میں تاکیداً کہتا ہوں کہ ان دنوں میں دوست دعائیں کریں اس سفر کے بابرکت ہونے کے لئے اور اسلام کے غلبہ کے لئے اور توحید باری کے قیام کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے ان قوموں پر ظاہر ہونے کے لئے اور اس بات کے لئے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اصلاح کا موقع دے اور ان پر فضل کرتے ہوئے انہیں اس بات کی توفیق دے کہ وہ اسے اور اس کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانے لگیں۔اب میں اختصار کے ساتھ اصل مضمون کی طرف آتا ہوں میں نے اس سلسلہ خطبات کے پہلے دو خطبے اپنی بہنوں کو مخاطب کر کے دیئے تھے اب میں اپنی سکیم میں بھی پہلے انہیں ہی مخاطب کرتا ہوں پچھلے خطبوں میں میں نے بتایا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کی نسل میں اس عظیم عبد کو پیدا کرے جو کامل عبد کی شکل میں دنیا پر