خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 762 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 762

خطبات ناصر جلد اوّل ۷۶۲ خطبہ جمعہ ۲۳ / جون ۱۹۶۷ء ظاہر ہوا اور جس کی تعلیم کے نتیجہ میں دنیا میں خالص تو حید قائم ہو۔بات یہ ہے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ کی شہادت ہم صرف اس صورت میں ہی دے سکتے ہیں جب ہمیں مُحَمَّدٌ عَبْدُهُ وَرَسُولُه کی پوری معرفت اور عرفان حاصل ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عبد کامل کی صورت میں دنیا میں ظہور پذیر ہوئے تا توحید خالص دنیا میں قائم ہو۔ہماری جماعت کا پہلا اور آخری فرض یہ ہے کہ توحید خالص کو اپنے نفسوں میں بھی اور اپنے ماحول میں بھی قائم کریں اور شرک کی سب کھڑکیوں کو بند کر دیں ہمارے گھروں میں صرف توحید کے دروازے ہی کھلے رہیں اور شرک کی سب راہوں کو ہم کلیۂ چھوڑ دیں اور توحید کی راہوں پر بشاشت کے ساتھ چلنے لگیں ہم بھی اور ہمارے بھائی بھی اور نوع انسان کے رشتہ سے جو ہمارے بھائی ہیں وہ بھی اس توحید خالص کی تعلیم پر قائم ہو جائیں۔توحید کے قیام میں ایک بڑی روک بدعت اور رسم ہے یہ ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہر بدعت اور ہر بدرسم شرک کی ایک راہ ہے اور کوئی شخص جو توحید خالص پر قائم ہونا چاہے وہ تو حید خالص پر قائم نہیں ہو سکتا جب تک وہ تمام بدعتوں اور تمام بد رسوم کو مٹانہ دے۔۔ہمارے معاشرے میں خاص طور پر اور دنیا کے مسلمانوں میں عام طور پر بیبیوں سینکڑوں شاید ہزاروں بدر سمیں داخل ہو چکی ہیں۔احمدی گھرانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام بد رسوم کو جڑ سے اکھیڑ کے اپنے گھروں سے باہر پھینک دیں چونکہ بد رسوم کا مسلم معاشرہ میں داخلہ زیادہ تر عورتوں کی راہ سے ہوتا ہے اس لئے آج میری پہلی مخاطب میری بہنیں ہی ہیں گو عام طور پر تمام احباب جماعت اور افراد جماعت مرد ہوں یا عورتیں وہ میرے مخاطب ہیں۔میں نے بتایا ہے کہ سینکڑوں ہزاروں بدرسوم ہمارے معاشرہ میں ہماری زندگی میں داخل ہو چکی ہیں کچھ پنجاب میں ہوں گی، کچھ دوسری سرحد میں ہوں گی ، کچھ سندھ میں ہوں گی۔کچھ مصر میں کچھ انڈونیشین احمدیوں میں آگئی ہوں گی ہم نے ہر گھر اور ہر مقام اور ہر شہر اور ہر ملک کے احمدی گھرانوں سے ان بدرسوم کو باہر نکال کے پھینکنا ہے یہ ہمارا مقصد ہے اس کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاسکتا کیونکہ مجھے تکلیف