خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 760 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 760

خطبات ناصر جلد اول 24۔خطبہ جمعہ ۲۳ / جون ۱۹۶۷ء کرنے والی جماعت ہے حالات کو سمجھنے والی جماعت ہے شیطان جن راہوں سے دل کے اندر گھس کے وسوسے پیدا کرتا ہے ان راہوں کو پہچانتی ہے اور شیطان کی جو دھیمی آواز ہے اس سے اچھی طرح واقف ہے کیونکہ وہ اس پر شوکت آواز سے واقف ہے جو خدا کی طرف سے آتی ہے تو جس آواز میں وہ شوکت نہ ہو، وہ عظمت نہ ہو، وہ سرور اور لذت نہ ہو، اس کو یہ جانتے ہیں کہ یہ ہمارے خدا کی آواز نہیں ہے، یہ صرف شیطان کی آواز ہے۔اگر یہ چیز میں ایسے لوگوں پر ظاہر ہو جا ئیں تو پھر بہت سے فتنوں سے جماعت بچ جاتی ہے۔تو اس خیال سے بھی تشویش پیدا ہوتی ہے اور ہونی چاہیے، یہ طبعی چیز ہے۔لیکن جو علم میں ذاتی مشاہدہ اور اللہ تعالیٰ کے سمجھانے پر اس جماعت کے متعلق رکھتا ہوں۔اس سے مجھے یہ تسلی ہے کہ خواہ کتنا ہی بڑا فتنہ ہو انشاء اللہ اس کے فضل کے ساتھ یہ جماعت اس قسم کی باتوں سے متاثر ہونے والی نہیں لیکن بہر حال چوکس اور ہوشیار رہنا چاہیے۔تو یہ سوچ کے کہ اگر خدا تعالیٰ نے چاہا اور اس سفر میں اس نے برکت مقدر کی اور اس کے سامان پیدا کر دیئے کم و بیش ایک ماہ کے لئے آپ سے دور رہنا پڑے گا۔طبیعت میں ایک اداسی بھی ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایک تشویش کا رنگ بھی ہے گو اس کے ساتھ امید بھی ہے کہ جماعت اس قسم کی باتوں کو کبھی پنپنے نہیں دے گی جو فتنے کی ہوں۔بہر حال میں درخواست کرتا ہوں آپ سب سے بھائیوں سے بھی ، بہنوں سے بھی ، بڑوں سے بھی اور چھوٹوں سے بھی ، کہ ان ایام میں خاص طور پر بہت دعائیں کریں، ایک یہ کہ اگر یہ سفر خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے اظہار کا موجب بننا ہو اور اسلام کی شوکت اس سے ظاہر ہونی ہو تبھی مجھے اس سفر پر جانے کی توفیق ملے اور جب میں جاؤں تو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کر دے کہ وہ پیغام جو حقیقتاً خدا کا پیغام ہے جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف لے کے آئے جسے دنیا اب بھول چکی تھی اور اب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند جلیل کی حیثیت سے دنیا پر ظاہر ہوئے وہ پیغام دنیا کو پہنچایا اسی غرض سے آپ کی بعثت ہوئی تو یہ پیغام صحیح طور پر اور ایسے رنگ میں کہ وہ تو میں اس پیغام کو سمجھنے لگیں