خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 711 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 711

خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۲۶ رمئی ۱۹۶۷ء ہے یہ حکم دیا ہے کہ ہر قوم اور ہر ملک کی ایک نمائندہ جماعت مرکز میں آتی رہنی چاہیے تا کہ وہ دین سیکھے اور ضروریاتِ وقت سے آگاہ ہو اور اس بات کا علم حاصل کرے کہ اسلام کے لئے موجودہ زمانہ میں کس قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہے اور ان کو معلوم ہو کہ ان کا امام وقت کن کاموں کی طرف اور کن منصوبوں کی طرف انہیں بلاتا ہے اور تا کہ وہ ان کی حکمتوں کو سمجھیں تا جب وہ واپس جائیں تو اپنے اپنے علاقہ میں اپنے دوسرے بھائیوں کو یہ بتائیں کہ اس وقت اسلام پر مثلاً فلاں فلاں طرف سے حملہ ہو رہا ہے اس کے جواب کے لئے تم تیار ہو جاؤ۔اسلام کے خلاف دجل کے یہ طریق استعمال کئے جا رہے ہیں اور اس وجہ سے اسلام کی حفاظت اور اسلام کی بقا کے لئے اور اسلام کی ترقی اور استحکام کے لئے جماعت کے سامنے یہ منصوبہ رکھا جا رہا ہے۔ان قربانیوں اور ایثار کے نمونوں کو پیش کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہو جاؤ اور عملی طور پر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قبیلوں کے نمائندے مدینہ میں آپ کے پاس جمع ہوتے رہتے تھے علم دین سکھتے اور علم قرآن سکھتے قرآن کریم کے بعض حصوں کو یاد کرتے تَفَقُهُ فِي الدِّين حاصل کرتے اور پھر وہ اپنی قوم میں واپس جاتے اور اس طرح احیاء دین اسلام کے سامان پیدا کر تے۔جولوگ وہاں مدینہ میں آتے وہ بھی اپنے وقت کی قربانی دیتے علم دین سیکھنے کے لئے بھی اور علم دین سکھانے کے لئے بھی اور ان سے علم دین سیکھنے والے بھی اپنے وقت خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ، اگر وہ ایسا نہ کرتے تو مدینہ میں آنے کا ان کے نفسوں کو تو فائدہ پہنچ جاتا ان سے دوسروں کو کوئی فائدہ نہ پہنچتا لیکن اس سکیم اور اس منصوبہ کی اصل غرض تو تھی ہی یہ کہ لوگ باہر سے مرکز میں آئیں دین سیکھیں ضروریات اسلام کا علم حاصل کریں پھر واپس جائیں اور یہ باتیں اپنے دوسرے بھائیوں کو بتا ئیں۔پس’طواف کا مقصد حاصل نہیں ہوتا جب تک یہ طائفہ و طائفین اور یہ لوگ وقت کی قربانی دینے والے نہ ہوں اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اسلام نے پاکیزگی اور طہارت کی تعلیم دی ہے اور خدا تعالیٰ نے ایسی اُمت پیدا کر دی ہے جو اپنے وقتوں کو قربان کر کے خدا اور اس کے