خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 712 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 712

خطبات ناصر جلد اول ۷۱۲ خطبہ جمعہ ۲۶ رمئی ۱۹۶۷ء رسول کے لئے مرکز میں جمع ہوتے ہیں اور واپس جا کر خدا اور رسول کی رضا کے لئے اپنے بھائیوں کو علم قرآن سکھاتے علم دین ان کو بتاتے۔جو تدابیر اختیار کی جارہی ہیں اسلام کی حفاظت یا اسلام کی اشاعت کے لئے۔وہ باتیں ان کے سامنے رکھتے اور ان کے دل میں خدا کی راہ میں قربانیاں پیش کرنے کے لئے بشاشت پیدا کرتے۔اس حکم کو اس وقت کی قوموں اور قبائل نے خوب اچھی طرح سمجھا تھا۔چنانچہ ابن عباس کی روایت ہے۔L كَانَ يَنْطَلِقُ مِنْ كُلِّ حَيْ مِنَ الْعَرَبِ عِصَابَةٌ فَيَأْتُونَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلُوْنَهُ عَمَّا يُرِيدُونَ مِنْ أَمْرِ دِينِهِمْ وَيَتَفَقَّهُونَ فِي دِينِهِمْ - ابن عباس کی روایت ہے کہ عرب کے ہر قبیلہ میں سے ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتی تھی اور جن باتوں کا انہیں پہلے علم نہ ہوتا ان کے متعلق وہ پوچھتے بصیرت حاصل کرتے مسائل کی حکمتیں معلوم کرتے اور پختہ ہو جاتے ، اپنے دین پر۔اور تَفَقُهُ في الدّین کو حاصل کرتے ، پھر وہ واپس جاتے اور دوسروں کو جا کر وہ سکھاتے تھے۔چنانچہ بہت تفصیل کے ساتھ ان وفود کا ذکر ہماری تاریخ میں پایا جاتا ہے جو اس غرض کے لئے اور اس حکم کو پورا کرنے کے لئے مدینہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور دین سیکھنے کے لئے وہاں ٹھہرتے تھے ایک گروہ کے بعد دوسرا گروہ پھر تیسر ا گر وہ پھر ایک اور گروہ آجا تا تھا۔ایک تسلسل جاری تھا اور اس تسلسل میں دین کی بقا کے سامان رکھے گئے تھے مثلاً تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایک وقت میں بحرین سے چودہ نمائندے آئے تھے اور اسی طرح حضرموت ( یمن ) سے اسی نمائندے آئے تھے اور اسی طرح ستراشی افراد پر مشتمل ایک وفد بنو تمیم کا آیا دین سیکھنے کے لئے اور یہ وفود بَقَوْا بِالْمَدِينَةِ مُدَّةً يَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ وَالدِّينَ ثُمَّ خَرَجُوا إلى قَوْمِهِمْ دین سیکھا پھر اپنی قوم میں گئے اور انہیں دین سکھلایا۔میں نے یہ چند مثالیں صرف اس لئے بیان کی ہیں تا کہ ہماری جماعتوں پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ اب تو وہ شاید ایک نمائندہ بھی نہیں دیتیں ان کلاسز کے لئے جو یہاں جاری کی جاتی ہیں