خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 710
خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۲۶ رمئی ۱۹۶۷ء مکمل طور پر تمہیں پاک اور مطہر بنادے اسی طرح قرآن کریم نے پانی کے متعلق فرمایا کہ اس کے بہت سے فوائد ہیں ایک یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم ظاہری صفائی کرتے ہو، کپڑے دھوتے ہو، برتن دھوتے ہو، گلیاں صاف کرتے ہو، مکانوں کو دھوتے ہو، جسموں کو دھوتے ہو۔ہزار پاکیز گیاں ہیں جو پانی کے ذریعہ سے حاصل کی جاتی ہیں مَاء لِيُطَهِّرَكُم بِه (الانفال :۱۲) تو قرآن کریم ظاہری اور باطنی صفائی اور پاکیزگی کی تعلیم سے بھرا پڑا ہے اور صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی ہے جن کے ذریعہ تعمیر بیت اللہ کا یہ مقصد حاصل ہوتا ہے۔خانہ خدا کی تعمیر کی بارہویں غرض لظالفین میں بتائی گئی تھی اور اس لفظ میں اس طرف اشارہ تھا کہ اقوام عالم کے نمائندے بار بار یہاں اس لئے جمع ہوں گے کہ وہ پاکیزگی اور طہارت کی تعلیم حاصل کریں اور پھر اپنے اپنے علاقہ میں جا کر اس تعلیم کو پھیلائیں اور اس کی اشاعت کریں۔یہ غرض بھی حقیقی طور پر صرف اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ پوری ہوئی ہے قرآن کریم نے اسی مقصد کے پیش نظر یہ حکم دیا۔وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا في الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ - (التوبة : ١٢٢) یعنی مومنوں کے لئے یہ تو ممکن نہیں کہ وہ سارے کے سارے مرکز اسلام میں اکٹھے ہو جائیں۔کیونکہ اسلام کے مخاطب اقوام عالم ہیں۔اقوام عالم مرکز اسلام میں کسی وقت بھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں لیکن مرکز کے ساتھ اقوام عالم کا پختہ تعلق قائم رہنا بھی ضروری ہے۔تو اس کے لئے اللہ فرماتا ہے کہ ہم تمہیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ چونکہ سب کا اکٹھا ہونا یہاں ممکن نہیں اس لئے کیوں نہ ہوا کہ ان کی جماعت میں سے ایک گروہ نکل پڑتا تا کہ وہ دین کو پوری طرح سیکھتے اور واپس لوٹ کر اپنی قوم کو بے دینی سے بچاتے اور اس طرح گمراہ ہونے سے ان کو بچالیتے۔انذار کے ذریعہ اور تخویف کے ذریعہ۔تو یہاں قرآن کریم نے امت مسلمہ کو جو اقوام عالم پرمشتمل اور ا کناف عالم میں پھیلی ہوئی