خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 700
خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۶۷ء اگر قانونی حکومت کو ملک میں رائج کرنا ہو۔اسی طرح یہ ضروری ہے کہ بین الاقوامی معاہدات میں کسی قوم کو کسی دوسری قوم پر ترجیح نہ دی جائے۔اگر ترجیح دی جائے گی تو وہ بین الاقوامی قانون لازماً نا کام ہو جائے گا۔قرآن کریم نے یہ تعلیم دی تھی کہ کسی قوم کو کسی قوم پر ترجیح نہ دینا۔انہوں نے سمجھا کہ ہم بڑے طاقت ور ہیں۔اپنے زور سے جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ویٹو کے حقوق بعض قوموں کو دیدئے یا بعض قوموں نے اپنے لئے یہ حقوق کے لئے اور بڑی وجہ اس وقت یو۔این۔او کی ناکامی کی یہی ہے کہ انہوں نے معاہدہ کرتے وقت صرف ایک قسم کا معاہدہ نہیں کیا جو صرف بین الاقوامی حیثیت کا ہوتا بلکہ اس کے اندر انفرادی معاہدے بھی شامل کر دئے گئے۔جوصرف بعض اقوام سے تعلق رکھتے تھے۔دنیا کی سب اقوام سے ان کو تعلق نہیں تھا۔قرآن کریم نے دوسری ہدایت یہ دی تھی (بین الاقوامی امن کے قیام کے متعلق ) کہ جس وقت جھگڑا ہو اسی وقت فیصلہ کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔لیکن آج دنیا کا دستورا اپنے ذاتی مفاد کے پیش نظر یہ بن گیا ہے کہ وہ جھگڑے کو لمبا ہونے دیتے ہیں لمبا کرتے چلے جاتے ہیں تا کہ بعض ذاتی مفاد کو حاصل کر سکیں اس طرح دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔پھر بین الاقوامی معاہدہ میں علاقائی تعصب مضر ہے بلکہ مہلک ہے لیکن بین الاقوامی معاہدہ جو یو۔این۔او کی شکل میں دنیا کے سامنا آیا اس کے باوجود ان قوموں نے جو اس کی ممبر بنیں بلکہ بازو بنیں علیحدہ علیحدہ معاہدے کرنے شروع کر دئے اور جن قوموں سے ان کے ذاتی تعلقات تھے ان کے حق میں تعصب اور جنبہ داری کے طریق کو اختیار کرنا شروع کر دیا۔پس قرآن کریم نے کہا ہے کہ بین الاقوامی امن صرف اس صورت میں قائم کیا جاسکتا ہے جب قوم قوم کے درمیان جنبہ داری کے سلوک کو اختیار نہ کیا جائے اور کوئی ایک قوم دوسری قوم کی ناجائز حمایت کرنے پر نہ تلے۔چوتھی چیز جس کے خلاف ہے قرآن۔مگر جس کے حق میں ہوگئی ہے یہ ظالم دنیا وہ یہ ہے کہ جب جھگڑا ہو جائے تو باہمی صلح کروانے کی بجائے بعض قوموں کو تعصب کی بنا پر سزا دینے کی تجویز