خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 701 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 701

خطبات ناصر جلد اوّل 2 +1 خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۶۷ء کرتے ہیں اور جب اور جہاں بھی موقع ملتا ہے قوموں کے حصے بخرے کرنے شروع کر دیتے ہیں۔جرمنی کے دو حصے کر دئے گئے کوریا اور ویٹ نام کا بھی یہی حال ہے یو۔این۔او کی موجودگی میں اور یو۔این۔او کے تمام دعاوی کے ہوتے ہوئے کہ وہ امن عالم کو قائم کرنے والی تنظیم ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ میرے سایہ تلے چلو گے تو امن کو دنیا میں قائم کرسکو گے میرے سایہ سے باہر نکلو گے تو شیطانی دھوپ کی تمازت تمہیں تنگ کرے گی اور چین نہیں لینے دے گی۔اور پانچویں تعلیم قرآن کریم نے یہ دی تھی کہ اگر بین الاقوامی امن کو قائم کرنا ہو تو پھر اس کے لئے ہر قوم کو قربانی دینی پڑے گی لیکن اب یہ حال ہے کہ بعض تو میں قربانی دیتی ہیں اور بعض انکار کر دیتی ہیں۔تو صرف قرآن کریم کی ہی ایسی تعلیم ہے جس پر عمل کر کے دنیا میں بین الاقوامی امن قائم کیا جا سکتا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی کتاب’احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں نتیجہ اس ساری بحث کا یہ نکالتے ہیں کہ ان پانچوں نقائص کو دور کر دیا جائے تو قرآن کریم کی بتائی ہوئی لیگ آف نیشنز بنتی ہے اور اصل میں ایسی ہی لیگ کوئی فائدہ بھی دے سکتی ہے، نہ وہ لیگ جواپنی ہستی کے قیام کے لئے لوگوں کی مہربانی کی نگاہوں کی جستجو میں بیٹھی رہے۔66 پھر آپ نے ” نظام نو میں فرما یا:۔لیگ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔وہی لیگ کامیاب ہو سکتی ہے جو قرآن شریف کی بتائی ہوئی ہدایات کے مطابق قائم ہو جیسا کہ میں نے بتایا ہے اللہ تعالیٰ نے ایک وعدہ یہ کیا کہ تمام اقوام عالم کو ایک سلسلہ میں پرو دیا جائے گا بین الاقوامی وحدت کو قائم کیا جائے گا۔پھر یہ فرمایا کہ بین الاقوامی وحدت کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ بین الاقوامی امن کی ضمانت دی جائے اور دعویٰ کیا کہ قرآن کریم کی شریعت بین الاقوامی امن کی ضمانت دیتی ہے اس شریعت کے احکام پر عمل کرو تو تمام دنیا کی اقوام میں اگر جھگڑے پیدا ہو بھی جائیں تو یہ انصاف