خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 699
خطبات ناصر جلد اول ۶۹۹ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۶۷ء تعلیم پر عمل کرنے سے مل سکتا ہے جو تعلیم کہ مکہ سے مبعوث ہونے والا خاتم النبیین دنیا کے سامنے پیش کرے گا کیونکہ اس آخری شریعت میں تمام فطری قوتوں اور استعدادوں کی صحیح نشوونما کے سامان رکھے جائیں گے اور انسانی عقل ان ہدایات سے تسلی پائے گی اور اس کا دل اطمینان حاصل کرے گا۔امنِ عالم کے قیام کے متعلق جو تعلیم قرآن کریم میں پائی جاتی ہے وہ بڑی مفصل ہے اور اس وقت میں اس کی تفصیل میں جانا نہیں چاہتا۔اس کے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کتاب ” احمدیت یعنی حقیقی اسلام “ اور ” نظام نو میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔ان کتب میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا ہے کہ پانچ بنیادی باتیں امن عالم کے قیام کے لئے قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں، جب تک ان اصولوں پر دنیا عمل نہیں کرے گی دنیا کی کوئی بین الاقوامی تنظیم کامیاب نہیں ہوگی۔پہلے لیگ آف نیشنز نا کام ہوئی پھر اب جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں یو۔این۔او نا کامی کی طرف جارہی ہے اور اس کی بڑی وجہ یا یوں کہنا چاہیے کہ ایک ہی وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے بین الا قوامی امن کے قیام کے لئے دنیا کو جو تعلیم دی تھی یہ لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوئے اور اس کو نہیں اپنا یا ان اصولوں کو ٹھکرانے کے نتیجہ میں وہ ناکامیوں کے دیکھتے چلے جارہے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ اس بات کا ذکر کیا ہے کہ صرف بین الاقوامی معاہدہ ( قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصول پر ) کی بجائے ایک ہی وقت میں دنیا دو قسم کے معاہدے کر لیتی ہے۔ایک تو تعلق رکھتے ہیں تمام اقوام کے ساتھ اور ایک وہ معاہدے ہوتے ہیں جو بڑی بڑی قو میں آپس میں کر لیتی ہیں اور چونکہ دو کشتیوں میں ان کا پاؤں ہوتا ہے اس لئے وہ ناکام ہو جاتے ہیں۔خود یو۔این۔او میں جو معاہدہ ہوا اس کے اندر ہی ایک اور معاہدہ مدغم کر دیا گیا۔بجائے اس کے کہ یہ خالص بین الاقوامی معاہدہ ہوتا انہوں نے اس کے اندر ویٹو کو اپنا لیا یعنی بعض قوموں کو یو۔این۔او نے یہ فضیلت عطا کی کہ ان کی رائے کے بغیر بعض معاملات طے نہیں ہو سکیں گے حالانکہ جس طرح وہ قانون جو افراد پر لاگو ہوتا ہے اس میں امیر اور غریب، طاقت ور اور کمزور میں فرق نہیں کیا جا سکتا نہ کیا جانا چاہیے۔