خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 647 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 647

خطبات ناصر جلد اول ۶۴۷ خطبہ جمعہ ۷ را پریل ۱۹۶۷ء سکھا۔یعنی قرآنی شریعت کو ہم پر نازل فرما۔پس آرنا مناسگنا میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب وہ رسول آئے گا اس کا تعلق دنیا کی ساری اقوام سے ہوگا اور ہر زمانہ سے ہوگا۔پس دعا کرتے رہو کہ اے ہمارے رب قوم قوم کی ضرورتوں اور طبیعتوں میں فرق اور زمانہ زمانہ کے مسائل میں فرق کے پیش نظر شریعت ایسی کامل اور مکمل بھیجنا کہ جو ہر قوم کے فطرتی تقاضوں کو پورا کرنے والی ہو اور ہر زمانہ کے مسائل کو وہ سلجھانے والی ہو۔قیامت تک زندہ رہنے والی ہوتا جس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی بنیا درکھی ہے وہ پوری ہو۔بائیسویں غرض اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ تُب عَلَيْنَا۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو آخری شریعت یہاں نازل کی جائے گی اس کا بڑا گہرا تعلق ربّ تواب سے ہوگا اور اس شریعت کے پیرو اس حقیقت کو پہچاننے والے ہوں گے کہ تو بہ اور مغفرت کے بغیر معرفت کا حصول ممکن نہیں ہے اس لئے وہ بار بار اس کی راہ میں قربانیاں بھی دینے والے ہوں گے اور بار بار اس کی طرف رجوع بھی کرنے والے ہوں گے اور کہیں گے کہ اے خدا! ہماری خطاؤں کو معاف کر دے۔وہ ایسی قوم ہوگی کہ جو نیکی کرنے کے بعد بھی اس بات سے ڈر رہی ہوگی کہ کہیں ہماری نیکی میں کوئی ایسا رخنہ نہ رہ گیا ہو جس سے ہمارا رب ناراض ہو جائے وہ ہر وقت استغفار اور تو بہ میں مشغول رہنے والی قوم ہوگی۔تیسواں مقصد اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ رَبَّنَا وَابْعَثُ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ کہ ہم محمد (رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ) کا مولد اسے بنانا چاہتے ہیں۔ہم اسے ایسا مقام بنانا چاہتے ہیں کہ جس کے ماحول میں تضرع اور ابتہال کے ساتھ ، عاجزی اور انکسار کے ساتھ ، عشق اور محبت کے ساتھ کی گئیں دعاؤں کے نتیجہ میں ہم اپنے ایک عبد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو محمد بیت کے مقام پر کھڑا کریں گے اور اس کے ذریعہ سے ایک ایسی شریعت کا قیام ہوگا اور ایک ایسی اُمت کو جنم دیا جائے گا کہ جو زندہ نشان اپنے ساتھ رکھتی ہوگی يَتْلُوا عَلَيْهِمُ التِكَ اور زندہ خدا کے ساتھ اور زندہ نبی کے ساتھ اور زندہ شریعت کے ساتھ ان کا تعلق ہو گا اور ان کو کامل شریعت کا سبق دیا جائے گا لیکن