خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 648 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 648

خطبات ناصر جلد اوّل ۶۴۸ خطبہ جمعہ ۷ را پریل ۱۹۶۷ء ناسمجھ بچوں کو جس طرح کہا جاتا ہے ان سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ ہم کہتے ہیں اور تم مانو۔اللہ تعالیٰ ان کی عقل اور فراست کو تیز کرنے کے لئے اپنے احکام کی حکمت بھی ان کو بتائے گا اس نبی کے ذریعہ اور اس طرح وہ کچھ ایسے پاک کر دئے جائیں گے کہ اس قسم کی پاکیزگی کسی پہلی قوم کو حاصل نہ ہوئی ہوگی اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہماری عقل بھی تسلیم کرتی ہے کیونکہ اگر پہلی امتوں پر ناقص شریعتوں کا نزول ہوا اور اس ناقص راہ نمائی کے نتیجہ میں ان کا تزکیہ ہوتو وہ تزکیہ کامل نہیں وہ ان کی فطرت کے مطابق، ان کی استعداد کے مطابق ، ان کی قوت کے مطابق تو ہے لیکن وہ کامل تزکیہ نہیں ہے کیونکہ جو تعلیم انہیں دی گئی ہے وہ کامل نہیں کیونکہ ان کی استعداد ابھی کامل نہیں۔پھر جب وہ قوم پیدا ہوگئی جو کامل شریعت کی حامل ہونے کی استعداد رکھتی تھی تو ان میں سے جن لوگوں نے انتہائی قربانیاں دے کر اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کے تمام احکام پر عمل کر کے اور تمام نواہی سے بچتے ہوئے اس کے حضور گریہ وزاری میں اپنی زندگی گزاری ان کو جو تزکیہ نفس حاصل ہو گا ( محض خدا تعالیٰ کے فضل سے نہ کہ ان کے اعمال کے نتیجہ میں ) وہ ایک ایسا کامل تزکیہ ہوگا۔وہ ایک ایسی مکمل طہارت اور پاکیزگی ہوگی۔اللہ تعالیٰ کی ایسی خوشنودی اور رضا ہوگی کہ اس قسم کی رضا پہلی قوموں نے حاصل نہیں کی ہوگی۔پس اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے کہ تئیسویں غرض بیت اللہ کے قیام کی یہ ہے کہ ایک خیر الرسل صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف مبعوث کیا جائے اور پھر انسان کو اس ارفع مقام پر لاکھڑا کیا جائے جس ارفع مقام پر کھڑا کرنے کے لئے ہم نے اسے پیدا کیا تھا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی اپنے فضل سے ان بندوں میں شامل کرے کہ ہم تو انتہائی طور پر کمزور اور نالائق اور خطا کار اور گنہگار اور نا سمجھ اور شہوات نفسانیہ میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن اگر وہ چاہے اور اس کا فضل ہم پر نازل ہو تو ہر قسم کے گند سے وہ ہمیں اٹھا کر پاکیزگی کی ان رفعتوں تک پہنچا سکتا ہے جن کا وعدہ اس نے اُمت مسلمہ سے کیا ہے۔آئنده خطبات میں انشاء اللہ میں ان تئیس مقاصد اور اغراض کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جس طرح پورا کیا گیا ہے اس کی تفصیل بیان کروں گا۔آہستہ آہستہ میں آپ کو اس طرف