خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 646 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 646

خطبات ناصر جلد اوّل ۶۴۶ خطبہ جمعہ ۱٫۷ پریل ۱۹۶۷ء ہے بلکہ وہ یہ ثابت کرے گا کہ خدا تعالیٰ ہی کی ذات علام الغیوب ہے۔تو خانہ کعبہ کی بنیا داس لئے رکھی گئی کہ خدا تعالیٰ کے بندے خدائے علیم سے متعارف ہو جائیں اور اس کو جاننے لگیں اور پہچاننے لگیں۔بیسویں غرض یہاں یہ بیان کی گئی ہے کہ وَمِنْ ذُريَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةٌ لَكَ يعنى امت مسلمہ ہماری ذریت میں سے بنائیو۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بتایا ہے کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ جس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف مبعوث ہوں تو آپ کی قوم أُمَّةٌ مُسْلِمَةٌ “ بنے کی اہلیت رکھتی ہو اور ابراہیمی دعاؤں کے نتیجہ میں وہ اُمَّةٌ مُسْلِمَةٌ بن بھی جائے گی اور اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ وہ نبی جس کا وعدہ دیا گیا ہے کہ وہ مکہ میں پیدا ہو گا مگر تم دعا کرتے رہو کہ اے خدا! ہماری اور ہماری نسلوں کی کسی غفلت اور کوتاہی کے نتیجہ میں کہیں ایسا نہ ہو کہ تیرے نزدیک ہم اس قابل نہ رہیں کہ وہ وعدہ ہمارے ساتھ پورا نہ ہو بلکہ کسی اور قوم میں وہ نبی مبعوث ہو جائے تو فرما یا میری اولا دکو ہی اُمت مسلمہ بنانا۔پہلے مخاطب وہی ہوں اور سب کے سب قبول کرنے والے بھی وہی ہوں۔پس یہاں یہ بتایا ہے کہ وہ اُمت جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہا السلام) کی ذریت سے پیدا ہونے والی ہے وہ اُمت مسلمہ بنے۔اس نبی کا انکار نہ کرے۔اس نبی پر ایمان لا کر جو ذمہ داریاں ان کے کندھوں پر پڑیں وہ ان کو نباہنے کی قوت اور استعداد رکھنے والی ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان کو ایسی ہی قوم بنانا چاہتے ہیں اور اسی غرض سے ہم نے خانہ کعبہ کی از سر نو تعمیر کروائی ہے۔اکیسواں مقصد یہاں یہ بیان فرمایا کہ آرنا مناسگنا اس میں اس طرف اشارہ فرمایا کہ مکہ معظمہ سے ایک ایسا رسول پیدا ہو گا جو دنیا کی طرف اس وقت آئے گا جب وہ اپنی روحانی اور ذہنی نشوونما کے بعد ایسے مقام پر پہنچ چکی ہوگی کہ وہ کامل اور مکمل شریعت کی حامل بن سکے۔ایسی شریعت جس میں پہلی شریعتوں کے مقابلہ میں لچک ہے۔ایسی شریعت جس میں مناسب حال عمل کرنے کی تعلیم دی گئی ہو اور ایسی شریعت جو ہر قوم اور ہر زمانہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہو۔ارنا مناسگنا ہمارے مناسب حال جو کام اور جو عبادتیں ہیں جو ذمہ داریاں ہیں وہ ہمیں دکھا اور