خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 624
خطبات ناصر جلد اوّل ۶۲۴ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۶۷ء اس طرف متوجہ نہیں ہو رہی اس لئے اب ایک ہی حربہ باقی رہ گیا ہے اور وہی کارگر ہے اور انشاء اللہ کارگر ہوگا اور وہ دعا کا حربہ ہے۔جہاں تک غیر مسلموں کا تعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس قدر ز بر دست دلائل اسلام کے حق میں اور ان کے غلط عقائد کے بطلان میں عطا کئے ہیں کہ جو بھی ان میں سے خلوص نیت کے ساتھ اور اس عہد کے ساتھ کہ اگر سچائی اسے مل گئی تو وہ اسے قبول کر لے گا ان دلائل پر غور کرے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ اسلام کی حقانیت کا قائل نہ ہو جائے اور حلقہ بگوش اسلام ہو کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھنے لگے۔جہاں تک ہمارے مسلمان بھائیوں کا تعلق ہے انہیں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار اس طرف متوجہ کیا ہے کہ تم امن کی فضا میں ہر قسم کے تعصبات کو چھوڑتے ہوئے محض خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے میری باتوں کو اور ان دلائل کو سنو جو آسمان سے میرے لئے تیار کئے گئے اور مہیا کئے گئے ہیں تا اللہ تعالیٰ تم پر یہ حق کھول دے کہ جماعت احمدیہ کا قیام غلبہ اسلام کے لئے اور اشاعت اسلام کی تکمیل کے لئے کیا گیا ہے۔جب تک سارے مسلمان اکٹھے ہو کر ان راہوں کو اختیار نہ کریں جو راہیں کہ اللہ تعالیٰ نے غلبہ اسلام کے لئے مقرر کی ہیں اس وقت تک ہمیں اس میں صحیح معنی میں کامیابی نہیں ہو سکتی لیکن انہوں نے ابھی اس طرف توجہ نہیں دی اور آخر ایک ہی دروازہ رہ گیا جسے کھٹکھٹانا ہمارے لئے ضروری ہو گیا اور وہ دعا کا دروازہ ہے ج حربے ناکام ہو جاتے ہیں ، جب سب تدابیر جو ہیں وہ بے نتیجہ ثابت ہو جاتی ہیں اور کچھ نظر نہیں آتا سوائے اس کے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اور انکسار کے ساتھ جھکیں اور اس کی ذاتی محبت میں سرشار ہو کر اس کے لئے ایثار کے وہ نمونے بنی نوع انسان کے سامنے پیش کریں کہ جن کی مثال سوائے صحابہ کرام کی زندگیوں کے اور کہیں ہمیں نہ ملتی ہو۔اس وقت ان بہت سے ملکوں میں بھی جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کو ترقی اور فروغ اور کامیابی حاصل ہو رہی تھی سیاسی بے چینی اور بدامنی پیدا ہورہی ہے مثلاً انڈونیشیا (جاوا سماٹر اوغیرہ) ہے وہاں کے سیاسی حالات بھی ابھی سٹیبل (Stable) نہیں ہوئے ، اطمینان نہیں لوگوں کو ،