خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 625
خطبات ناصر جلد اول ۶۲۵ خطبه جمعه ۲۴ مارچ ۱۹۶۷ء نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، کیا حالات پیدا ہوں گے، کب انہیں امن اور سکون کی زندگی ملے گی۔کب وہ اپنی زندگیوں کو معمول کے مطابق گزار نے لگیں گے۔مغربی افریقہ میں نائیجیریا میں بھی بدامنی کے سے حالات ہیں۔غانا میں بھی پوری طرح ابھی سٹیبلٹی (Stability) قائم نہیں ہوئی۔اطمینان نہیں گو حالات بہت حد تک بہتر ہیں نائیجیریا کے مقابل میں اور ابھی پچھلے دو چار روز میں سیرالیون میں بھی سیاسی فساد اور فتنہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ وہاں اسی ماہ کی سترہ تاریخ کو انتخابات ہوئے تھے لیکن جیسا کہ آج کی خبروں سے پتہ چلتا ہے قبل اس کے کہ انتخابات کا نتیجہ نکلتا وہاں کے گورنر جنرل نے حزب مخالف کو دعوت دی کہ وہ حکومت بنا ئیں یعنی ابھی سارے نتائج بھی نہیں نکلے تھے کسی وجہ سے، جس کا ہمیں علم نہیں ہو سکا ، حزب مخالف کو دعوت دی گئی اس پر وہاں کی حکومت نے بغاوت کر دی اور حزب اختلاف کا جو قائد تھا اور جس نے وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالا تھا اور حلف لی تھی اس حلف کے معاً بعد ہی فوج نے اسے حراست میں لے لیا اور اعلان کیا کہ قبل اس کے کہ نتائج نکلیں گورنر جنرل کو یہ حق کہاں سے پہنچتا ہے کہ وہ حزب اختلاف کو حکومت بنانے کی دعوت دے۔بہر حال بڑا پر امن ملک تھا اس وقت تک لیکن اب ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہاں کیا حالات پیدا ہوں اور خصوصاً یہ ملک اور اسی طرح مشرقی افریقہ میں ( پہلے جو ایک ملک تھا اب تین ملک ہو گئے ہیں یعنی ) کینیا ، یوگنڈا اور ٹانگانیکا ( اور اب تنزانیہ کہلاتا ہے کیونکہ زنجبار کے ساتھ ان کی فیڈریشن قائم ہو گئی ہے اور نام انہوں نے ٹانگانیکا سے بدل کر اپنا تنزانیہ رکھ لیا ہے تو ان ملکوں) کے سیاسی حالات بھی اطمینان پیدا کرنے والے نہیں بلکہ تشویش پیدا کرنے والے ہیں اور یہ وہ ممالک ہیں جہاں (افریقہ کے اور ممالک میں بھی اس میں شک نہیں جماعتیں قائم ہیں ) جماعت احمدیہ کو نسبتاً بہت زیادہ اقتدار اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہو چکا ہے دوستوں کو یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس بے اطمینانی میں سے اطمینان کی کوئی ایسی صورت پیدا کر دے کہ وہ اسلام کے لئے مفید ہو اور جس کے نتیجہ میں جماعت احمد یہ پہلے سے بھی زیادہ مستحکم ہو جائے کہ سب طاقتیں اور قدرتیں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )