خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 584 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 584

خطبات ناصر جلد اول ۵۸۴ خطبہ جمعہ ۱۰ / فروری ۱۹۶۷ء رہی تھی یہ حمد کے جذبات اور شکر کے خیالات جو ہیں یہ میرے اکیلے کے جذبات نہیں بلکہ میرے ہر بھائی کے جذبات ہیں کہ بحیثیت جماعت اللہ تعالیٰ اس جماعت پر کتنے فضل ، کتنے رحم کرنے والا ہے اور ان کو قربانی کے کس قدر بلند مقام پر پہنچنے کی اس نے توفیق دی ہے اور اس معیار کو قائم رکھنے بلکہ بڑھاتے چلے جانے کی توفیق وہ دیتا چلا جاتا ہے۔پچھلے جمعہ تو میری یہ کیفیت تھی کہ میرے روئیں روئیں سے الْحَمْدُ لِلَّهِ ہی نکل رہا تھا اور زبان پر بھی الْحَمدُ للهِ ہی جاری تھا۔اور میں چاہتا تھا کہ جماعت کے سامنے بھی یہ باتیں رکھوں تا کہ وہ بھی اپنے رب کے شکر گزار بندے بنیں اور خدا کی حمد کے ترانے گائیں کہ اس نے اپنے فضل کے ساتھ ان کو ان تمام روکوں کے باوجود اس کی رضا کے حصول کے لئے یہ کام کرنے کی توفیق عطا کی ہے اور اس رنگ میں کہ دنیا کی نگاہ میں اس کا جواب اور اس کی مثال نہیں۔پھر خشک سالی کی وجہ سے علاوہ اور تکلیفوں کے نزلہ کھانسی وغیرہ کی تکلیف بھی وبائی صورت میں پھیلی ہوئی ہے وہ بھی دوستوں نے برداشت کی اگر چہ اکثر دوستوں کو ان ایام میں جلسہ میں اللہ تعالیٰ نے عام طور پر محفوظ رکھا اور وہ جلسہ کے دنوں میں اپنے رب سے توفیق پاتے رہے کہ نقار یرسُن لیں اور ان سے فائدہ حاصل کریں اور آئندہ بھی فائدہ کے حصول کی نیت کر کے ان کو یا درکھیں اور ان باتوں کو دنیا میں جا کر بتا ئیں۔جلسہ کے دنوں میں اللہ تعالیٰ کے بڑے ہی انوار نازل ہوتے رہے ہیں۔بڑی ہی برکات کا نزول ہوا ہے۔اپنے تو محسوس کرتے ہی ہیں اور اس پر شکر بھی بجالاتے ہیں لیکن دوسروں کے لئے ایسی چیزوں کا پہچاننا اور سمجھنا اور ان کو انوار الہی اور برکات سماوی یقین کرنا مشکل ہوتا ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے بھی اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔مجھے بڑی خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ ہمارے چند غیر مبائع دوست بھی یہاں تشریف لائے تھے اور ان میں سے چند ایک نے تو یہیں بیعت کر لی اور ایک کے منہ سے تو نکلا کہ ہم تو کچھ اور ہی سمجھتے تھے لیکن یہاں آکر کچھ اور دیکھا سمجھتے تو وہ وہی تھے نا !! جو ان کو بتایا جاتا تھا کہ خدا تعالیٰ کا فضل مبایعین کی جماعت کے ساتھ نہیں ہے بلکہ غیر مبائعین کی جماعت کے ساتھ ہے سنی سنائی باتوں پر وہ یقین رکھتے تھے لیکن