خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 583 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 583

خطبات ناصر جلد اوّل ۵۸۳ خطبہ جمعہ ۱۰ / فروری ۱۹۶۷ء ہے تو ہزاروں خاندان ایسے ہوں گے کہ جن کے سامنے یہ مسئلہ در پیش تھا کہ وہ کچھ دن یا ہفتے نیم بھوکا رہ کر گزارنے کے لئے تیار ہیں یا جلسہ چھوڑنے کے لئے تیار ہیں کیونکہ جلسہ پر بھی جو دوست باہر سے آتے ہیں ان کا بہر حال کچھ نہ کچھ خرچ ہوتا ہے۔مجموعی طور پر ( جو میں نے اندازہ لگایا ہے کہ اگر میں روپے فی کس اوسط رکھی جائے اگر چہ مثلاً کراچی سے آنے والے اور پشاور سے آنے والے دوست اس سے زیادہ خرچ کرتے ہوں گے لیکن اگر اوسط ہیں رو پے بھی رکھی جائے تو جلسہ پر آنے والے احمدیوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے، خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کم و بیش دس اور پندرہ لاکھ کے درمیان خرچ کیا ہے اگر یہ دوست اور بھائی جلسہ پر نہ آتے تو جماعت کے ان خاندانوں کے پاس کم و بیش دس پندرہ لاکھ روپے کی ایسی رقم ہوتی جس سے وہ مہنگائی کے زمانہ میں گندم آٹا چاول وغیرہ چیزیں خرید سکتے تھے۔تو جماعت نے خدا کی خاطر بڑی قربانی پیش کی ہے۔جیسا کہ اس جماعت کو اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ہی اس بات کی توفیق دی ہے کہ وہ اس قسم کی قربانیاں اس کے حضور پیش کرتی جائے لیکن یہ کوئی معمولی بات نہیں بڑی بات ہے۔ہزار ہا خاندانوں کا یہ فیصلہ کرنا کہ ہمیں نیم بھوکا رہنا منظور لیکن جلسہ سے غیر حاضری منظور نہیں ہے۔ایک اور روک یہ تھی کہ ان دنوں سکولوں اور کالجز میں چھٹیاں نہیں تھیں اور بہت سے بچے یا نوجوان یا بہت سے ماں باپ بھی اپنے بچوں کی وجہ سے جلسہ میں شمولیت نہیں کر سکتے تھے سوائے خاص کوشش اور غیر معمولی قربانیوں کے وہ جلسہ پر نہ آسکتے تھے۔پس ان تمام روکوں کے باوجود گذشتہ جلسہ کے موقع پر پرچی کے لحاظ سے بھی اور جو گاڑیوں اور بسوں پر سے مسافر اترے اور ان کی گنتی ہوتی ہے ( گو سارے مسافروں کی گنتی نہیں ہوسکتی لیکن بہر حال ہر سال ہوتی ہے اس سے ہمیں پتہ چلتا رہتا ہے کہ اس سال آنے والوں کی تعداد میں زیادتی ہوئی ہے یا کمی ) ہر دولحاظ سے چند ہزار کی زیادتی ہوئی۔ان سب چیزوں کو دیکھ کر خدا کی حمد سے دل اتنا معمور ہوا کہ انگریزی میں کہتے ہیں۔Over flow کر گیا یعنی حمد اتنی شدت اختیار کر گئی کہ دل اور روح میں سما نہیں سکتی تھی باہر نکل