خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 585 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 585

خطبات ناصر جلد اول ۵۸۵ خطبہ جمعہ ۱۰ / فروری ۱۹۶۷ء جو آنکھ نے دیکھا اس نے کان کو جھٹلا دیا اور انہوں نے یہ مشاہدہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہزار قسم کے فضل اور اس کی رحمتیں اس جماعت پر نازل ہو رہی ہیں اور خصوصاً جلسہ کے ایام میں تو اللہ تعالیٰ دلوں پر تصرف کر کے ایک خاص کیفیت روحانی پیدا کر دیتا ہے اس سے وہ متاثر ہوئے اور یہیں انہوں نے بیعت کر لی۔ایک دوست تھے وہ کسی وجہ سے بیعت تو نہیں کر سکے لیکن ان کا تاثر یہ تھا کہ وہ ایک دوست سے ۲۸ جنوری کی صبح کو کہنے لگے کہ میں قسم کھا کے کہہ سکتا ہوں کہ یہ تقریر (جو غیر مبایعین کے متعلق تھی ۲۷ تاریخ کو ) ساری کی ساری الہامی تھی تقریر الہامی تو نہ تھی اگر چہ اس کے خاص فضل کی حامل تھی مگر اس قسم کا اثر اللہ تعالیٰ نے ان کے دماغ پر ڈالا لیکن اس کے باوجود ابھی انہوں نے بیعت کر کے اپنے اس عہد بیعت کی جو انہوں نے یا ان کے بڑوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیا تھا اس کی تجدید نہیں کی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں بھی اور ان کے دوسرے بھائیوں کو بھی توفیق عطا کرے کہ وہ ایک ایک کر کے اس جماعت کے ساتھ آ شامل ہوں۔جس جماعت کے ذریعہ اب اللہ تعالیٰ تمام دنیا میں غلبہ اسلام کے سامان پیدا کر رہا ہے اور ان فضلوں کے وارث ہوں جو فضل اللہ تعالیٰ اس جماعت کی حقیر کوششوں کے نتیجہ میں آسمان سے نازل کر رہا ہے اور ان کوششوں کے وہ نتائج نکال رہا ہے کہ کوشش اور نتیجہ کے درمیان کوئی نسبت ہی ہم نہیں دیکھتے یہ بھی نہ بھولیں کہ آپ بازار میں جائیں تو آپ کو آج کل کنٹرول پر بھی روپیہ کا دوسیر یا پونے دوسیر آٹا ملے گا۔حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے ساتھ حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ سلوک کیا تھا کہ آئے کا مقررہ کوٹہ بھی ان کو دے دیا تھا اور روپے بھی ان کو واپس دے دیئے تھے تو دیکھنے والا اس بات پر بھی حیران ہوتا ہے حالانکہ یہ چند اونٹ گندم تھی جو عطا کی گئی اور جس کی قیمت بھی واپس کر دی گئی لیکن یہاں تو یہ حال ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے قیمت تو ضرور لیتا ہے اور کہتا ہے قربانیاں کرواؤں گا تم سے لیکن اس کے بعد وہ ہمیں تھوڑ اسا آٹا یا گندم یا چاول یا گھی یا شکر نہیں دیتا بلکہ دنیا جہاں کی نعمتیں ہمیں دیتا ہے اور قربانیوں کی شکل میں جو قیمت اس نے لی ہوتی ہے وہ بھی واپس کر دیتا ہے۔