خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 420
خطبات ناصر جلد اول ۴۲۰ خطبہ جمعہ ۷ اکتوبر ۱۹۶۶ء اپنے چندوں میں بھی اضافہ کرتے چلے جاتے لیکن اس نسبت یعنی ڈیوڑھی نسبت کے ساتھ بھی واقفین نہیں آئے بلکہ سوائی نسبت کے ساتھ یا ہر سال ۱/۵ یا ۱/۱۰ کی زیادتی کے ساتھ بھی واقفین اس تحریک میں شامل نہیں ہوئے ورنہ وہ فوری ضرورتیں پوری ہو جاتیں جو اس وقت ہمارے سامنے آ رہی ہیں اور جنہیں پورا ہوتے نہ دیکھ کر ہمیں دکھ اور اذیت اور تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے اگر ہماری فوری ضرورتیں پوری ہو جاتیں تو ہم اس دکھ تکلیف اور اذیت سے بچے رہتے جماعتیں پکار رہی ہیں کہ اگر چاہتے ہو کہ ہم میں احمدیت قائم رہے تو ہمیں مستقل واقف دو۔وقف عارضی والے آپ سے بار بار مطالبہ کر رہے ہیں کہ جماعتوں میں واقفین بھیجے جائیں اور جماعت کو کہہ رہے ہیں کہ ان واقفین کو سنبھالنے کے لئے جس قدر رقم کی ضرورت ہے وہ مہیا کرے لیکن آپ نے اس طرف کوئی توجہ نہیں کی اور یہ بڑا ظلم ہوا ہے اس لئے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ سب کو جگاؤں اور بیدار کروں اور اس تحریک کی اہمیت آپ کے ذہن نشین کرانے کے بعد آپ سے یہ مطالبہ کروں کہ آئندہ سال مجھے کم از کم ایک سونے واقفین چاہئیں مجھے بتایا گیا ہے کہ وقف جدید کی تربیتی کلاس جنوری سے شروع ہوتی ہے اور دسمبر تک رہتی ہے۔پس میرا مطالبہ یہ ہے کہ جنوری ۶۷ء میں جو نئی تربیتی کلاس شروع ہوگی اس میں کم از کم سو واقفین شامل ہونے چاہئیں۔اگر جماعت نے میرا یہ مطالبہ پورا کر دیا تب بھی ہمیں ایک سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔کیونکہ کلاس کا نصاب ایک سال کا ہے اور نئے واقفین جو آئیں گے وہ ایک سال تک تربیت حاصل کریں گے اور اگر وہ سارے کامیاب بھی ہو جائیں تب بھی ایک سال کے بعد ہی ہم ان سونے واقفین سے جماعت کی تربیت کا کام لے سکیں گے۔بہر حال اگر یکصد نئے واقفین آجائیں تو ہمیں یہ تسلی اور اطمینان تو ہو گا کہ ایک سال کے بعد کم از کم سونئی جماعتوں میں واقفین وقف جدید پہنچ جائیں گے اور وہ وہاں مستقل طور پر رہیں گے۔ہم ایک سال اور انتظار کر لیں گے۔اس عرصہ میں ہم وقف عارضی کے انتظام کے ماتحت خوابیدہ جماعتوں کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے اور جب واقفین مستقل طور پر جماعتوں میں پہنچ جائیں گے تو وہ قرآن کریم پڑھانے اور جماعت کی تربیت اور دیگر ذمہ داریوں کو ادا کرتے رہیں گے اور