خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 419 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 419

خطبات ناصر جلد اول ۴۱۹ خطبہ جمعہ ۷ /اکتوبر ۱۹۶۶ء نہ نکلا جو میرے نز دیک نو سالوں میں نکلنا چاہیے تھا اور اس کی ذمہ داری ساری جماعت پر بحیثیت جماعت عائد ہوتی ہے۔وقف عارضی کے جو وفود مختلف علاقوں میں گئے ہیں ان میں سے کم از کم ساٹھ ستر فیصدی وفود ایسے ہوں گے جنہوں نے اپنا وقف عارضی کا زمانہ ختم کرنے کے بعد جو آخری رپورٹ ہمیں بھجوائی اس میں بڑی شدت سے یہ مطالبہ کیا کہ اس جماعت کو کوئی مربی یا معلم ضرور دیا جائے اور یہ بھی لکھا کہ جماعت خود بھی یہ احساس رکھتی ہے کہ جب تک اسے کوئی معلم نہ دیا جائے وہ ان ذمہ داریوں کو کما حقہ، ادا نہیں کر سکتی جو تربیت کے لحاظ سے اس پر عائد ہوتی ہیں۔لیکن اگر میرے پاس واقفین ہی نہ ہوں تو میں انہیں کہاں سے معلم مہیا کروں۔پھر معلمین کو اگر جماعت اپنی ہمت اور جماعتی ضرورت کے مطابق مالی قربانیاں پیش نہ کرے تو ان می گزارہ کہاں سے دیا جائے۔پس پہلی بات تو یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ واقفین اس تحریک میں شمولیت کے لئے اپنے نام پیش کریں۔میں نے بتایا ہے کہ اس وقت زیر تعلیم واقفین کو شامل کر کے قریباً ۸۱ واقف ہمارے پاس ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس تحریک کو ابتداء دس کی تعداد سے شروع کیا۔اگر ہم ہر سال اس میں دس دس کا اضافہ کرتے تب بھی اس وقت ہمارے پاس ۹۰ واقفین ہونے چاہیے تھے لیکن اگر ہم اس تعداد میں ہر سال صرف دس دس کی زیادتی ہی کریں تو چونکہ ہم نے ہزاروں تک پہنچنا ہے اس لئے جب ہم پہلے ہزار تک پہنچیں گے تو ایک صدی گزر چکی ہوگی اور ہم اتنالمبا عرصہ انتظار نہیں کر سکتے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت اس طرف توجہ دے تو ہر سال پہلے سال کی نسبت دگنی تعداد میں واقف آسکتے ہیں۔اگر ایسا ہوتا رہتا تو اس وقت واقفین کی تعداد پانچ ہزار کے قریب پہنچ چکی ہوتی۔یعنی اگر پہلے سال دس واقفین تھے تو دوسرے سال بین واقفین رکھے جاتے۔تیسرے سال چالین رکھے جاتے اور چوتھے سال اتنی تک ان کی تعداد پہنچ جاتی اور اس طرح نو سال میں ان کی تعداد ۵۱۱۰ تک جا پہنچتی۔اگر ہم پہلے سال کی نسبت واقفین کی تعداد میں ڈیڑھ گنا اضافہ بھی کرتے رہتے تب بھی ہماری ضرورت ایک حد تک پوری ہو جاتی بشر طیکہ ہم اسی تناسب سے