خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 421
خطبات ناصر جلد اول ۴۲۱ خطبہ جمعہ ۷ /اکتوبر ۱۹۶۶ء اس طرح جماعت سنبھل جائے گی اور بیدار ہو جائے گی اور اس میں زندگی کی ایک نئی روح پیدا ہو جائے گی۔لیکن اگر آپ حسب سابق ہر سال اس تعداد میں صرف دس کا ہی اضافہ کریں تو یہ ہمارے لئے کافی نہیں۔پس میں چاہتا ہوں کہ اگلے سال واقفین وقف جدید کی کلاس میں جو جنوری ۱۹۶۷ء سے شروع ہوگی۔کم از کم ایک سو واقفین ہو جائیں اور جماعت کو چاہیے کہ وہ اس طرف متوجہ ہو۔اساتذہ کی ایک تعداد ہر سال ریٹائر ہوتی ہے۔اگر وہ خاص طور پر اس طرف توجہ دیں تو وہ بہت مفید ہو سکتے ہیں۔اگر پنشن یافتہ اساتذہ اپنی بقیہ عمر وقف جدید میں وقف کریں تو ہمیں زیادہ اچھے اور تجربہ کار واقفین مل سکتے ہیں بشرطیکہ وہ خلوص نیت رکھنے والے ہوں اپنے اندر قربانی کا مادہ رکھنے والے ہوں۔دنیا کی محبت ان کے دلوں میں سرد ہو چکی ہو۔وہ خدا تعالیٰ کی طرف منہ کر کے اپنی بقیہ زندگی گزارنے کے متمنی اور خواہاں ہوں اور دنیا، شیطان اور دنیوی آرام اور آسائشوں کی طرف پیٹھ کر کے اپنی بقیہ زندگی کے دن گزارنے کے لئے تیار ہوں۔وہ باپ کی طرح تربیت کرنے والے ہوں۔یعنی محبت، پیار، اخلاص، ہمدردی اور غمخواری کے ساتھ تربیت کرنے والے ہوں۔ایسے اساتذہ اگر ہمیں مل جائیں تو ممکن ہے ہم انہیں یہاں ایک سال کی بجائے چند ماہ تعلیم دے کر جماعتوں میں کام کرنے کے لئے بھجواسکیں۔اگر ہمیں واقفین زیادہ تعداد میں مل جائیں اور میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں کہ وہ جماعت کو یہ توفیق عطا کرے گا کہ جس تعداد میں واقفین کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اس تعداد میں واقفین مہیا کر دے۔تو پھر ان کے خرچ کا سوال پیدا ہو جاتا ہے۔گزشتہ سال مجلس شوری کے موقع پر وقف جدید کا بجٹ ایک لاکھ ستر ہزار روپے (۱,۷۷۰۰۰ ) کا منظور ہوا تھا۔لیکن اس وقت تک دفتر وقف جدید میں جو وعدے وصول ہوئے ہیں وہ صرف ایک لاکھ چالیس ہزار روپے کے قریب کے ہیں۔یعنی وقف جدید کے منظور شدہ بجٹ کے مطابق بھی ابھی وعدے موصول نہیں ہوئے۔پھر بعض جائز اور ناجائز وجوہ کی بنا پر سارے وعدے عملاً پورے بھی نہیں ہوا کرتے۔یعنی اتنی رقم موصول نہیں ہوتی جتنی رقم کے وعدے ہوتے ہیں۔سال کے شروع میں ایک شخص