خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 418 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 418

خطبات ناصر جلد اول ۴۱۸ خطبہ جمعہ ۷ /اکتوبر ۱۹۶۶ء جیسا کہ میں نے ابھی مختصر ابتا یا ہے۔وقف جدید کی تحریک کی ابتداء دس واقفین سے ہوئی تھی اور اس وقت جبکہ اس تحریک پر قریباً نو سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔یہ تعداد صرف اکاسی واقفین تک پہنچی ہے۔جن میں سے سترہ کے قریب زیر تعلیم ہیں اور صرف چونسٹھ مختلف جماعتوں میں کام کر رہے ہیں۔حالانکہ حضور کا منشا یہ تھا کہ دنیا بھر کی جماعتیں ہزاروں کی تعداد میں واقفین ہمیں دیں اور ہم اول تو ہر جماعت میں اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو کم از کم دس دس پندرہ پندرہ میل کے حلقہ میں ایک ایک ایسے واقف ( وقف جدید ) کو مقرر کریں جس نے قربانی کے جذبہ سے، خلوص کے ساتھ اور خدمتِ اسلام کی نیت سے اپنی زندگی وقف کی ہو۔اس واقف کو معمولی گزارہ دیا جائے۔مثلاً پچاس یا ساٹھ روپے ماہوار اور اس کے باقی اخراجات کے لئے آمد کے بعض اور ذرائع مہیا کئے جائیں۔مثلاً یسا انتظام کیا جائے کہ جس جماعت میں اسے مقرر کیا جائے۔وہ جماعت یا تو دس ایکڑ زمین اس تحریک کے لئے وقف کرے اور اس زمین کی آمد اس واقف کو دی جائے اور یا پھر اس واقف کے ذریعہ پرائمری تک ایک سکول کھول دیا جائے جہاں وہ احمدی بچوں کو ( اور دوسرے بچوں کو بھی جو وہاں تعلیم حاصل کرنا چاہیں ) قرآن کریم پڑھائے اور دوسری مروجہ تعلیم بھی دے اور یا پھر اسے کمپاؤنڈری یا حکمت کی ابتدائی تعلیم دلائی جائے تا وہ ایسی جگہوں پر جہاں ابتدائی طبی امداد بھی مہیا ہونا مشکل ہے۔وہاں کے رہنے والوں کو ابتدائی طبی امداد مہیا کرے اور اس طرح پر جو آمد ہو وہ بھی مرکز وصول نہ کرے بلکہ اس ذریعہ سے جو آمد بھی ہو وہ اس واقف کو دے دی جائے سکول کی صورت میں اگر اساتذہ ایک سے زائد ہوں تو فیس کے ذریعہ جو آمد ہو وہ سب اساتذہ میں تقسیم کر دی جائے۔بہر حال اس وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ نظر آرہا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر جماعت میں کم از کم ایک معلم ضرور بٹھا دیا جائے۔لیکن چونکہ حضور ایک لمبا عرصہ علیل رہے اور اس عرصہ میں جماعت حضور کے خطبات سے محروم رہی اور چونکہ جب تک بار بار جگایا نہ جاتا رہے۔انسان عادتا کمزوری کی طرف مائل ہو جاتا ہے اس لئے وقف جدید کی اہمیت اور افادیت آہستہ آہستہ جماعت کے افراد کی نظروں سے اوجھل ہوتی چلی گئی اور اس تحریک کا وہ نتیجہ