خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 288 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 288

خطبات ناصر جلد اول ۲۸۸ خطبہ جمعہ ۱۷ جون ۱۹۶۶ء بارے میں ایک پیشگوئی ہے اور اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے وصیت کے طور پر ایک حکم ہے جس کو ترک کرنا سچے مسلمان کا کام نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ کتُبُلُونَ فِي أَمْوَالِكُمْ وَانْفُسِكُمْ وَ لَتَسْمَعُنَ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ اشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۖ وَ إِنْ تَصْبِرُوا وَ تَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (ال عمران : ۱۸۷) ترجمہ یہ ہے کہ خدا تمہارے مالوں اور جانوں پر بلا بھیج کر تمہاری آزمائیش کرے گا اور تم اہل کتاب اور مشرکوں سے بہت سی دکھ دینے والی باتیں سنو گے سو اگر تم صبر کرو گے اور اپنے تئیں ہرا یک ناکردنی امر سے بچاؤ گے تو خدا کے نزدیک اولوالعزم لوگوں میں سے ٹھہرو گے۔یہ مدنی سورۃ ہے اور یہ اس زمانہ کے لئے مسلمانوں کو وصیت کی گئی ہے کہ جب ایک مذہبی آزادی کا زمانہ ہوگا اور جو کوئی کچھ سخت گوئی کرنا چاہے تو وہ کر سکے گا جیسا کہ یہ زمانہ ہے۔تو کچھ شک نہیں کہ یہ پیشگوئی اسی زمانہ کے لئے تھی اور اسی زمانہ میں پوری ہوئی۔کون ثابت کر سکتا ہے کہ جو اس آیت میں اڈی کثیرا کا لفظ ایک عظیم الشان ایذا رسانی کو چاہتا ہے وہ کبھی کسی صدی میں اس سے پہلے اسلام نے دیکھی ہے؟ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں:۔خدا تعالیٰ جو اپنے دین اور اپنے رسول کے لئے ہم سے زیادہ غیرت رکھتا ہے۔وہ ہمیں رد لکھنے کی جابجا ترغیب دے کر بد زبانی کے مقابل پر یہ حکم فرماتا ہے کہ ”جب تم اہل کتاب اور مشرکوں سے دکھ دینے والی باتیں سنو اور ضرور ہے کہ تم آخری زمانہ میں بہت سے دلآزار کلمات سنو گے۔پس اگر تم اس وقت صبر کرو گے تو خدا کے نزدیک اولوالعزم سمجھے جاؤ گے دیکھو یہ کیسی نصیحت ہے اور یہ خاص اسی زمانہ کے لئے ہے کیونکہ ایسا موقعہ اور اس درجہ کی تحقیر اور تو ہین اور گالیاں سننے کا نظارہ اس سے پہلے کبھی مسلمانوں کو دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔یہی زمانہ ہے جس میں کروڑ ہا تو ہین اور تحقیر کی کتابیں تالیف ہوئیں ، یہی زمانہ ہے جس میں ہزار ہا الزام محض افترا کے طور پر ہمارے پیارے نبی، ہمارے سید و مولیٰ ہمارے بادی و مقتدا جناب حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی افضل الرسل