خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 289
خطبات ناصر جلد اوّل ۲۸۹ خطبہ جمعہ ۱۷ جون ۱۹۶۶ء خیر الوریٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگائے گئے۔سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ قرآن شریف میں یعنی سورہ آل عمران میں یہ حکم ہمیں فرمایا گیا ہے کہ " تم آخری زمانہ میں نا منصف پادریوں اور مشرکوں سے دکھ دینے والی باتیں سنو گے اور طرح طرح کے دل آزار کلمات سے ستائے جاؤ گے اور ایسے وقت میں خدا تعالیٰ کے نزدیک صبر کرنا بہتر ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ ہم بار بارصبر کے لئے تاکید کرتے ہیں۔پھر حضور فرماتے ہیں :۔1966 ’ہاں خدا نے ہم پر فرض کر دیا ہے کہ جھوٹے الزامات کو حکمت اور موعظت حسنہ کے ساتھ دور کریں اور خدا جانتا ہے کہ کبھی ہم نے جواب کے وقت نرمی اور آہنگی کو ہاتھ سے نہیں دیا اور ہمیشہ نرم اور ملائم الفاظ سے کام لیا ہے۔بجز اس صورت کے کہ بعض اوقات مخالفوں کی طرف سے نہایت سخت اور فتنہ انگیز تحریریں پا کر کسی قدر سختی مصلحت آمیز اس غرض سے ہم نے اختیار کی کہ تا قوم اس طرح سے اپنا معاوضہ پا کر وحشیانہ جوش کو دبائے رکھے اور یہ ختی نہ کسی نفسانی جوش سے اور نہ کسی اشتعال سے بلکہ محض آیت وَجَادِلُهُمْ بِالْحِكْمَةِ * ر عمل کر کے ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال میں لائی گئی اور وہ بھی اس وقت کہ مخالفوں کی تو ہین اور تحقیر اور بد زبانی انتہاء تک پہنچ گئی اور ہمارے سید ومولی ، سرور کائنات، فخر موجودات کی نسبت ایسے گندے اور پر شر الفاظ ان لوگوں نے استعمال کئے کہ قریب تھا کہ ان سے نقض امن پیدا ہو۔گندہ دہنی اور دل آزار با تیں تاریک دل اور تاریک زبان سے نکلتی ہیں اور ضرور تھا کہ سب سے زیادہ اس قسم کے حملوں کا نشانہ وہ ذات بنے جو ہر لحاظ سے سب سے زیادہ منور تھی۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ ساری دنیا یہ زمین اور یہ آسمان اور یہ ستارے سب کچھ اس لئے پیدا کیا گیا کہ مخلوقات میں سے ایک ہستی ، ایک وجود محمد مصطفی سا ظاہر ہونے والا تھا۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے * یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ النحل کی آیت ۱۲۶ کا حوالہ دے رہے ہیں جو یہ ہے۔اُدعُ إِلى سَبِيلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ - (ناشر)