خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 217 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 217

خطبات ناصر جلد اول ۲۱۷ خطبہ جمعہ ۱۵ را پریل ۱۹۶۶ء شیطان کا تسلط نہیں ہوا کرتا۔،، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک طرف احکام قرآنی ہیں جو تمہارے سامنے ہیں اور ایک طرف وساوس شیطانی ہیں جو تمہیں ان کی خلاف ورزی پر آمادہ کر رہے ہیں اور ان ہر دو کے ذریعہ سے تمہاری آزمائش کی جارہی ہے۔اس آزمائش میں پورا اترنے کے لئے ضروری ہے کہ تم یہ یا درکھو کہ تم ہماری طرف ہی لوٹ کر آنے والے ہو۔جو شخص آخرت پر حقیقی ایمان رکھتا ہو اور اسے یہ یقین کامل حاصل ہو کہ اليْنَا تُرْجَعُونَ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا وہ کسی بھی آزمائش کے وقت کس طرح ٹھوکر کھا سکتا ہے؟ پس ایک قسم کی آزمائش خدا تعالیٰ کے احکام اور شیطانی وساوس کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔(۲) دوسرا فتنہ یا آزمائش جس سے مومن آزمائے جاتے ہیں وہ قضاء وقدر کی آزمائش ہے کبھی کبھی اللہ تعالیٰ مومنوں کو قضاء و قدر کی آزمائش میں ڈال کر ان کا امتحان لیتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں فرمایا وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ (البقرة : ۱۵۶) کہ ہم اپنی مشیت اور اذن سے تمہارے ایمان لانے کے بعد تمہارے مالوں میں نقصان کی صورت پیدا کر دیں گے۔احمدیت میں بھی جو اللہ تعالیٰ کا سچا سلسلہ ہے ہر روز ایسی مثالیں ملتی رہتی ہیں مجھے کئی خطوط آتے رہتے ہیں جن میں لکھا ہوتا ہے کہ ہم احمدی ہوئے تھے مگر بیعت کے بعد ہمیں نقصان ہونا شروع ہو گیا ہے۔اگر یہ لوگ قرآن کریم کی ذرا بھی سمجھ رکھتے ہوں تو وہ فوراً جان لیں کہ یہ نقصان احمدیت کی صداقت کی دلیل ہے نہ کہ اس کے غلط یا جھوٹا ہونے کی کیونکہ قرآن کریم نے پہلے ہی بوضاحت بتا دیا تھا کہ جب تم ایمان لاؤ گے تو کبھی خدا تعالیٰ تمہارے مالوں میں تنگی پیدا کرے گا اور تمہیں آزمائے گا کہ آیا تم مال کو خدا تعالیٰ پر ترجیح دیتے ہو یا خدا تعالیٰ کی مرضی کو مال پر ترجیح دیتے ہو۔وَالْأَنْفُس اور کبھی یہ کرے گا کہ ادھر تم ایمان لائے اُدھر تمہارا بچہ مرگیا یا کوئی دوسرا رشتہ دار فوت ہو گیا۔اس وقت شیطان آئے گا اور تمہارے دل میں وسوسہ ڈالے گا کہ یہ مذہب جو تم نے