خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 216
خطبات ناصر جلد اول ۲۱۶ خطبہ جمعہ ۱۵ را پریل ۱۹۶۶ء ڈالا جاتا ہے۔پس وہ مومن جو تقویٰ پر قائم ہوتا ہے وہ بشاشت سے خدا تعالیٰ کی اس آواز پر لبیک کہتا ہے اور اپنے مال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر کے وہ اس امتحان میں پورا اترتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بہت سی نعمتوں میں سے جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں تمہاری زندگی کے لمحات بھی ہیں، عمر بھی ہے، جب ہماری طرف سے اپنی عمر اور وقت کا کچھ حصہ قربانی کرنے کے لئے تمہیں آواز دی جائے تو تمہارا فرض ہے کہ تم اس آزمائش میں بھی پورے اتر و تا ہمارے فضلوں کے وارث ٹھہرو۔اسی طرح عزتیں اور وجاہتیں بھی خدا تعالیٰ کی ہی دی ہوئی ہیں جو ایک مومن کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنی پڑتی ہیں۔خدا تعالیٰ کے احکام میں ایک حصہ نواہی کا ہے یعنی بعض باتیں ایسی ہیں جن سے وہ روکتا ہے مثلاً دنیوی رسم و رواج ہیں جن کی وجہ سے بعض لوگ اپنی استطاعت سے زیادہ بچوں کی بیاہ شادی پر خرچ کر دیتے ہیں حالانکہ وہ اسراف ہے جس سے اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے رسم و رواج کو پورا کرنے کے لئے خرچ نہ کیا ہمارے رشتہ داروں میں ہماری ناک کٹ جائے گی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری خاطر رسم ورواج کو چھوڑ کر اپنی ناک کٹواؤ تب تمہیں میری طرف سے عزت کی ناک عطا کی جائے گی۔تو الخیر جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ مومنوں کو آزماتا ہے۔وہ قرآن کریم کے احکام ہیں۔اس کے مقابلہ میں السر کا لفظ استعمال فرمایا ہے گویا ہر وہ حکم امر ہو یا نہی جو قرآن کریم کے مخالف اور معارض ہو۔اسے اکشر کہا گیا ہے کیونکہ شیطان اور اس کے پیروؤں کا یہ کام ہے کہ وہ لوگوں کے کانوں میں قرآن کریم کے خلاف باتیں ڈالتے رہتے ہیں۔کبھی یہ کہتے ہیں کہ خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے کا کیا فائدہ؟ کبھی یہ کہتے ہیں کہ ان مومنوں کی خاطر جو کمزور اور غریب مہاجر ہیں تم اپنے وقتوں اور عزتوں کو کیوں ضائع کرتے ہو۔دیکھ لیں منافقوں کا وطیرہ اور کفار کا یہی طریق ہے کہ وہ قرآنی احکام کے مقابل معارض باتیں مومنوں کے کانوں میں ڈالتے ہیں اور یہ غلط امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کی باتوں پر کان دھریں گے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے مومن بندوں پر