خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 218 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 218

خطبات ناصر جلد اول ۲۱۸ خطبہ جمعہ ۱۵ را پریل ۱۹۶۶ء اختیار کیا بڑا منحوس ہے۔دیکھو ابھی تم ایمان لائے اور تمہارا بچہ فوت ہو گیا یا تمہاری ماں کا انتقال ہو گیا یا تمہارا باپ چلتا بنا وغیرہ وغیرہ لیکن اگر تم قرآن کریم کو جانتے اور سمجھتے ہو گے تو تم اس آیت کے ماتحت ایک قسم کی بشاشت محسوس کرو گے کہ کتنا سچا ہے ہمارا خدا اور کتنا مہربان ہے وہ کہ وقت سے پہلے ہی اس نے یہ بتادیا تھا کہ ہم اس قسم کی آزمائش میں تمہیں ڈالے جائیں گے۔وَالثَّمرات اور کبھی وہ یہ کرے گا کہ دنیا کے حصول کے لئے جو تمہاری کوششیں ہوں گی دنیوی میدان میں اس کا نتیجہ ٹھیک نہیں نکلے گا اور ہم اس کو تمہارے لئے ایک آزمائش بنا دیں گے۔تو اس قسم کی آزمائشوں کو قضاء وقدر کی آزمائش کہا جاتا ہے یہ دوسری قسم کی آزمائش ہے جس میں سے مومن کو گزرنا پڑتا ہے۔(۳) تیسرا فتنہ یا آزمائش جس کا ذکر ہمیں قرآن کریم سے ملتا ہے وہ مخالفین کی ایذا رسانی ہے اگر ہم تاریخ انبیاء پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہر نبی اور مامور کے ماننے والوں کوان کے مخالفین نے ہر قسم کی ایذا ئیں پہنچائیں لیکن اس میں سے سب سے زیادہ حصہ اس نبی کے صحابہ کو دیا گیا جوسب انبیاء سے اعلیٰ ، ارفع، سب سے زیادہ مقدس اور امام المطہرین تھے یعنی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے مکی زندگی میں اور پھر اس کے بعد جہاں جہاں بھی اسلام دنیا میں پھیلتا گیا، اسلام میں داخل ہونے والوں کو تکالیف اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بھی ایک آزمائش ہے جس میں سے تم میں سے ہر مومن کو گزرنا ہے۔اگر تمہارے دل میں واقعی میری محبت ہے اور تم واقعی میری رضا کو حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہیں اس آزمائش سے بھی صدق و وفا کے ساتھ گزرنا پڑے گا۔اس امتحان میں پورا اترنے اور ہمیں اپنے عذاب سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اور تصور بھی ہمارے سامنے پیش فرمایا ہے۔فرمایا۔وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ فَإِذَا أُوذِيَ في اللهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللهِ (العنکبوت :۱۱) اور لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے لیکن جب اعلان ایمان کے بعد ان پر آزمائش آتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس تیسری قسم کے فتنہ سے ان کا امتحان لینا چاہتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی خاطر اور اس کی وجہ سے