خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 140
خطبات ناصر جلد اول ۱۴۰ خطبه جمعه ۱۱ار فروری ۱۹۶۶ء مدارج ارتقاء طے کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے قریب سے قریب تر ہوتے چلے جائیں تو پھر ان صفات کا ہماری فطرت میں رکھا جانا مفید نہ ہوتا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک طرف ہمیں فطرتِ صحیحہ عطا کی ہے اور دوسری طرف قرآن کریم جیسی تعلیم دے کر ، اس فطرت صحیحہ کے صحیح نشو و نما کے سامان کر دئے ہیں کیونکہ قرآن کریم کے بغیر انسان اپنی زندگی کا مقصد حاصل نہیں کر سکتا اس وقت میں دوستوں کو اس سلسلہ میں کہ قرآن کریم سے ہمیں کس قدر پیار کرنا چاہیے ( اور پھر اگر فی الواقع پیار ہو جائے تو انسان ایک لحظہ کے لئے بھی یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اتنی اچھی ،حسین ، خوبصورت ، دل کو موہ لینے والی اور دل و دماغ اور سینہ کو معطر کر دینے والی چیز ہمیں ملی ہو اور ہم اپنی اولاد اور اپنے رشتہ داروں کو اس سے محروم رکھیں) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں سے دو اقتباسات سنانا چاہتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں :۔حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اس کے ظل تھے۔سو تم قرآن کو تدبر سے پڑھو اور اس سے بہت ہی پیار کرو۔ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو۔کیونکہ جیسا کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ الْخَيْرُ كُلُهُ فِي الْقُرْآنِ کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں یہی بات سچ ہے۔افسوس ان لوگوں پر جو کسی اور چیز کو اس پر مقدم رکھتے ہیں۔تمہاری تمام فلاح اور نجات کا سرچشمہ قرآن میں ہے۔کوئی بھی تمہاری ایسی دینی ضرورت نہیں جو قرآن میں نہیں پائی جاتی۔تمہارے ایمان کا مصدق یا مکذب قیامت کے دن قرآن ہے اور بجز قرآن کے آسمان کے نیچے اور کوئی کتاب نہیں جو بلا واسطه قرآن تمہیں ہدایت دے سکے۔خدا نے تم پر بہت احسان کیا ہے جو قرآن جیسی کتاب تمہیں عنایت کی۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ کتاب جو تم پر پڑھی گئی اگر عیسائیوں پر پڑھی جاتی تو وہ ہلاک نہ ہوتے اور یہ نعمت اور ہدایت جو تمہیں دی گئی۔اگر بجائے توریت کے یہودیوں کو دی جاتی تو بعض فرقے ان کے قیامت سے منکر نہ ہوتے۔پس اس نعمت کی قدر کرو جو تمہیں دی گئی یہ نہایت پیاری نعمت ہے یہ بڑی دولت ہے۔اگر