خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 139 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 139

خطبات ناصر جلد اول ۱۳۹ خطبه جمعه ۱ار فروری ۱۹۶۶ء کہ وہ تمہاری اولاد تک نہ پہنچے۔غرض افراد کو ہر طرح سمجھانا۔انہیں تلقین کرنا اور یاد دلانا ہمارا کام ہے اور اگر کوئی شخص مجبور ہے، معذور ہے تو اس کی ہر ممکن مدد کرنا بھی ہمارا کام ہے لیکن اگر جماعت میں کوئی ایسا آدمی موجود ہے کہ وہ خود اپنے بچوں کو قرآن کریم پڑھا سکتا ہے اور وہ باوجود سمجھانے کے اپنے بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کی طرف متوجہ نہیں ہوتا یا وہ مالدار ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے اس قدر توفیق دے رکھی ہے کہ وہ استاد رکھ کر اپنے بچوں کو قرآن کریم پڑھا سکتا ہے لیکن وہ اس طرف توجہ نہیں کرتا۔تو ایسا شخص ہمارے لئے انتہائی بے عزتی کا باعث ہے ایسے شخص کو سمجھ لینا چاہیے کہ جماعت اس کی اس حرکت کو کبھی برداشت نہیں کرے گی جماعت کا یہ فرض ہے کہ جب تک ایسا شخص جماعت کے ساتھ منسلک ہے اسے اپنے بچوں کو وقت دے کر یا رقم خرچ کر کے قرآن کریم پڑھوانے کے لئے مجبور کرے۔میں نے قرآن کریم کے پڑھانے کی جو سکیم جماعت کے سامنے رکھی تھی اس پر عمل کرنے کے لئے میرے نزدیک کسی بجٹ کی ضرورت نہیں صرف انتظام کی ضرورت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ لوگ جن کے سپرد یہ کام ہے اس کی طرف پوری توجہ کریں تو ہمیں اس کام کے لئے روپیہ کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ نے جماعت کو قرآن کریم پڑھنے اور پڑھانے والے دوست کثرت سے دئے ہیں اور میں کامل یقین رکھتا ہوں۔جب جماعت سے اپیل کی جائے گی کہ بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کے لئے رضا کاروں کی ضرورت ہے تو جماعت کی عورتیں اور مرد ضرورت سے زیادہ اپنے نام پیش کر دیں گے انشاء اللہ لیکن منتظمین کو بھی اس نہج اور طریق پر سوچنا اور کام کرنا چاہیے کہ پیسہ خرچ کرنے کی طرف ان کو توجہ نہ ہو اور اس یقین کامل کے ساتھ انہیں کام کرنا چاہیے کہ ہم پیسہ بھی خرچ نہیں کریں گے اور ہمارا کام بھی ہو جائے گا۔قرآن کریم ایک ایسی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں محض اپنے فضل سے عطا کی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ ہمیں فطرتِ صحیحہ عطا کر دیتا اور پھر ہمیں اپنی ان صفات کا بھی مظہر بنا دیتا جو اس مادی دنیا سے تعلق رکھتی ہیں جس میں ہم نے اپنی زندگی گزارنی ہے لیکن ان صفات کے صحیح استعمال کا ہمیں علم نہ دیتا ان صفات سے ہمیں صحیح طریق پر کام لینے کا علم نہ دیتا وہ ان راہوں کی نشان دہی نہ کرتا جن پر چل کر ہم