خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 141 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 141

خطبات ناصر جلد اول ۱۴۱ خطبه جمعه ۱۱ار فروری ۱۹۶۶ء قرآن نہ آتا تو تمام دنیا ایک گندے مُضغۃ کی طرح تھی۔قرآن وہ کتاب ہے جس کے مقابل پر تمام ہدا یتیں بیچ ہیں۔اسی طرح حضور علیہ السلام ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں:۔بلاشبہ جن لوگوں کو راہ راست سے مناسبت اور ایک قسم کا رشتہ ہے ان کا دل قرآن شریف کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے اور خدائے کریم نے ان کے دل ہی اس طرح کے بنار کھے ہیں کہ وہ عاشق کی طرح اپنے اس محبوب کی طرف جھکتے ہیں اور بغیر اس کے کسی جگہ قرار نہیں پکڑتے اور اس سے ایک صاف اور صریح بات سن کر پھر کسی دوسرے کی نہیں سنتے اس کی ہر یک صداقت کو خوشی سے اور دوڑ کر قبول کر لیتے ہیں اور آخر وہی ہے جو موجب اشراق اور روشن ضمیری کا ہو جاتا ہے اور عجیب در عجیب انکشافات کا ذریعہ ٹھہرتا ہے اور ہر یک کو ،استعداد معراج ترقی پر پہنچاتا ہے راست بازوں کو قرآن کریم کے انوار کے نیچے چلنے کی ہمیشہ حاجت رہی ہے اور جب کبھی کسی حالتِ جدیدہ زمانہ نے اسلام کو کسی دوسرے مذہب کے ساتھ ٹکرا دیا ہے تو وہ تیز اور کارگر ہتھیار جو فی الفور کام آیا ہے قرآن کریم ہی ہے ایسا ہی جب کہیں فلسفی خیالات مخالفانہ طور پر شائع ہوتے رہے تو اس خبیث پودہ کی بیخ کنی آخر قرآن کریم ہی نے کی اور ایسا اس کو حقیر اور ذلیل کر کے دکھلا دیا کہ ناظرین کے آگے آئینہ رکھ دیا کہ سچا فلسفہ یہ ہے نہ وہ حال کے زمانہ میں بھی جب اوّل عیسائی واعظوں نے سر اُٹھایا اور بد فہم اور نادان لوگوں کو توحید سے کھینچ کر ایک عاجز بندہ کا پرستار بنانا چاہا اور اپنے مغشوش طریق کو سو فسطائی تقریروں سے آراستہ کر کے ان کے آگے رکھ دیا اور ایک طوفان مُلک ہند میں بر پا کر دیا۔آخر قر آن کریم ہی تھا جس نے انہیں پسپا کیا کہ اب وہ لوگ کسی با خبر آدمی کو منہ بھی نہیں دکھلا سکتے۔اور ان کے لمبے چوڑے عذرات کو یوں الگ کر کے رکھ دیا۔جس طرح کوئی کا غذ کا تختہ لپیٹے۔غرض قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فرمان اور خود ہماری اپنی عقل کے مطالبہ اور تقاضا کے مطابق ہمیں اتنا پیار کر نا چاہیے کہ کسی اور چیز