خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 133
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۳۳ خطبه جمعه ۱۱ فروری ۱۹۶۶ء فرمایا يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ (ال عمران:۴۱) عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقرۃ: ۲۱) یعنی ہر چیز جسے وہ چاہے کرتا ہے وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔پھر فرمایا خدا تعالیٰ غَالِبٌ عَلَى آمده (یوسف: ۲۲) ہے یعنی کوئی چیز اسے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی اب اگر خدا تعالیٰ انسان کو اپنی صفات عطا کر کے چھوڑ دیتا اور اسے طبیعت ثانیہ عطا نہ کرتا تو اس رنگ میں یہ بنیادی اختلاف پیدا ہو جاتا کہ وہ آزاد نہ رہا بلکہ ان صفات کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہو گیا لیکن ایسا نہیں ہوا۔خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی بعض صفات عطا کر کے کہا میں اب تمہیں آزادی بھی دیتا ہوں اور اس آزادی کے لئے ایک متوازی طبیعت ثانیہ کی ضرورت تھی۔خدا تعالیٰ نے انسان کو کہا میں نے تمہیں اپنی صفات تو دے دی ہیں لیکن تم ان کے مطابق عمل کرنے پر مجبور نہیں ہو میں تمہیں یہ اجازت بھی دیتا ہوں کہ اگر تم چاہو تو ان صفات کی قدر نہ کرو اور ان وساوس میں مبتلا ہو جاؤ جو شیطان تمہارے دل کے اندر پیدا کرتا ہے۔تم میرے حکم کی تعمیل کی بجائے شیطان کی پیروی کرنے لگ جاؤ اور میری صفات کا مظہر بننے کی بجائے شیطانی صفات کے مظہر بن جاؤ تمہیں آزادی ہے تم جو چاہو کرو اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطرتِ صحیحہ کے ساتھ ساتھ ایک طبیعت ثانیہ بھی عطا کی اور اس کی وجہ سے انسان بعض دفعہ شیطان کی بات مان کر خدا تعالیٰ کے مقابلہ پر کھڑا ہو جاتا ہے حالانکہ انسان کی فطرت صحیحہ اسے ایسا کرنے سے منع کرتی ہے۔اسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔يَاأَيُّهَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَكَ بِرَيْكَ الْكَرِيمِ - الَّذِى خَلَقَكَ فَسَوكَ فَعَدَ لَكَ - في اي صُورَةٍ ما شَاءَ رَكَبَكَ - (الانفطار : ۷ تا ۹) یعنی اے انسان تجھے کس نے تیرے رب کے بارے میں مغرور بنایا ہے۔ماغرّكَ بغلان کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ تجھے اس کے مقابلہ میں دلیری اور جرات کے ساتھ کھڑے ہو جانے پر کس نے آمادہ کیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے انسان ہم نے تجھے پیدا کیا پھر تیری فطرت صحیحہ میں اپنی بعض صفات رکھیں اور پھر تجھے اپنی صفات کا مظہر بنایا۔فسونك پھر تیری ان صفات کو تیرے مناسب حال درست کیا اور پھر تجھے خالی صفات ہی نہیں دیں بلکہ تجھے ان صفات کے