خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 132 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 132

خطبات ناصر جلد اول ۱۳۲ خطبه جمعه ۱۱ فروری ۱۹۶۶ء کوئی انسان یہ نہیں کہے گا کہ میں انصاف کو پسند نہیں کرتا پھر اس کے معنی نفع دینے والی چیز کے ہیں آپ کو کوئی انسان ایسا نہیں ملے گا جو کہے مجھے وہ اشیاء در کار نہیں جو نفع دینے والی ہیں بلکہ مجھے ان اشیاء کی ضرورت ہے جو نقصان دینے والی ہوں۔پس خیر ہر اس چیز کو کہیں گے جس میں تمام بنی نوع انسان رغبت اور اس کے حصول کی خواہش رکھتے ہوں اور پھر وہ چیز انہیں محبوب اور پیاری ہو پھر صرف یہ نہیں کہ وہ چیز بنی نوع انسان کو پیاری ہو بلکہ ہر حال میں پیاری ہو۔چنانچہ امام راغب نے لکھا ہے کہ وَهُوَ أَنْ يَكُونَ مَرْغُوْبًا فِيْهِ بِكُلِّ حَالٍ وَ عِنْدَ كُلِّ أَمْرٍ یعنی وہ چیز انسان کو ہر حال میں مرغوب ہو اور اگر غور سے دیکھا جائے تو وہ چیزیں جو ہمیں بطور انسان کے مرغوب اور محبوب ہیں اور ہم ان سے پیار کرتے ہیں وہی ہیں جن کا تقاضا ہماری فطرتِ صحیحہ کی مختلف صفات کر رہی ہوتی ہیں۔جو چیزیں ہماری فطرتِ صحیحہ کے خلاف ہوں اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم میں سے بعض افراد ان سے دلچسپی لے سکتے ہیں اور انہیں اچھا سمجھ سکتے ہیں لیکن سارے کے سارے بنی نوع انسان اس میں رغبت نہیں رکھتے اور نہ ان سے محبت کرتے ہیں۔پس ایسی اشیاء جو اس تعریف کے ماتحت آتی ہیں۔وہ صرف وہی چیزیں ہوسکتی ہیں۔جن کا مطالبہ انسان کی فطرت صحیحہ کی مختلف صفات نے کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا پھر اس کی فطرت میں کچھ صفات رکھیں پھر ہر صفت پر جو اس میں رکھی اپنی صفت کا ایک ٹھپہ لگا دیا اس پر اپنی صفت کی مہر لگا دی۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی وہ تمام صفات عطا کیں جن کا تعلق اس کی دنیوی زندگی سے تھا خدا تعالیٰ کی صفات تو غیر محدود ہیں۔لیکن ایک محدود انسانی زندگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جن صفات کا تعلق تھا ان میں سے ہر ایک صفت خدا تعالیٰ نے انسان کو عطا کی اور پھر اس پر اپنی اسی صفت کا ٹھپہ اور مہر لگا دی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک اور چیز بھی عطا کی اور وہ انسان کی طبیعت ثانیہ ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی صفات میں کامل اور غیر محدود ہے اور وہ اپنی ان صفات کے غیر محدود مظاہرے ہر آن کرنے والا ہے۔لیکن انسان محدود تھا اس لئے ان صفات کے مل جانے کے بعد اختلافی طور پر ایک چیز باقی رہ جاتی تھی اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتا ہے۔جیسے