خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 134
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۳۴ خطبه جمعه ۱ار فروری ۱۹۶۶ء مطابق اعمال بجالانے کی قوت بھی عطا کی خدا تعالیٰ تو خیر قادر مطلق ذات ہے۔اس کی صفات اور اس کی قدرتیں پہلو بہ پہلو چل رہی ہوتی ہیں اس کے لئے نہ اس دنیا میں کوئی روک ہے اور نہ اگلی دنیا میں کوئی روک ہے۔وہ مُلِكُ كُلِّ شَيْءٍ ہے وہ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ہے وہ قَادِرُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ ہے لیکن انسان ایسا نہیں۔اس کو اگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنی بعض صفات دی ہو تیں لیکن ان کے مطابق اعمال بجالانے کی طاقت اسے حاصل نہ ہوتی تو یہ سب صفات اس کے کسی کام کی نہ ہوتیں وہ محض ایک بریکا رشے ہوتیں مثلاً صفت رحم ہے اگر اللہ تعالیٰ انسان کو صفت رحم تو عطا کرتا لیکن رحم کرنے کے لئے جن اسباب اور ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے وہ اسے عطا نہ کئے جاتے تو یہ صفت انسان کے لئے بریکارے بن کر رہ جاتی۔پس جہاں تک انسان کا تعلق ہے ضروری ہے کہ ہر صفت کے مطابق اسے اعمال بجالانے کے لئے مناسب ذرائع سامان اور اسباب بھی عطا کئے جائیں ورنہ وہ صفت انسان کے کسی کام کی نہیں رہتی تو فرما یا فسوكَ فَعَد لك ہم نے تجھے تیری صفات کے مطابق ایسی قو تیں دی ہیں اور ایسے اسباب پیدا کر دئے ہیں کہ یہ صفات نا کا رہ نہ بن جائیں بلکہ تو ان کے مطابق اپنی عملی زندگی گزار سکے ہم نے تجھے اپنی صفات کا مظہر بنایا ہے اور ان کے مطابق عمل بجالانے یا نہ بجالانے میں آزاد رکھا ہے پھر تی آي صُورَةٍ مَا شَاءَ رَكَبَكَ اس کے بعد خدا تعالیٰ نے جو صورت پسند کی اس میں تجھے ڈھالا اس آیت میں اس طرف بھی لطیف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے مجبور پیدا نہیں کیا بلکہ تجھے تیری فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ طبیعت ثانیہ بھی عطا کی ہے اور تجھے اجازت دی ہے کہ اگر تو چاہے تو خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کی صفات حسنہ کا حقیقی مظہر بنے اور اگر تو چاہے تو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں ابا ء اور استکبار کا رویہ اختیار کرتے ہوئے بغاوت اختیار کرلے اور شیطان کے گروہ میں شامل ہو جائے اور خدا تعالیٰ کا انسان کو یہ آزادی دینا بھی دراصل اسے مظہر صفاتِ باری بنانے کے لئے ضروری تھا۔ور نہ اگر جبر کا طریق اختیار کیا جاتا تو اس میں اور خدا تعالیٰ کی دوسری مخلوقات میں کوئی فرق نہ رہتا اور انسان کو دوسری مخلوقات پر کوئی فضلیت حاصل نہ ہوتی کیونکہ خدا تعالیٰ کی ساری مخلوقات ہی اس کی اطاعت میں لگی ہوئی ہے اور وہ اس کے احکام کے بجالانے سے انکار نہیں کر سکتی۔دیکھو