خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 131 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 131

خطبات ناصر جلد اول ۱۳۱ خطبه جمعه ۱۱ار فروری ۱۹۶۶ء بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کے اصل ذمہ دار ان کے والدین ہیں خطبه جمعه فرموده ۱۱ فروری ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا ہے۔خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ تم میں سے خیر وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے بھی خیر ثابت ہو۔خیر کا لفظ عربی زبان میں اسم کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور صفت کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے جب یہ لفظ اسم کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔تو اس کے ایک معنی یہ ہوتے ہیں کہ حُصُولُ الشَّيْءِ بِكَمَا لَاتِہ کسی چیز کا اپنے تمام کمالات کے ساتھ حاصل ہو جانا۔امام راغب نے اپنی کتاب مفردات میں لکھا ہے کہ الْخَيْرُ مَا يَرْغَبُ فِيْهِ الْكُلُّ كَالْعَقْلِ مَثَلًا وَالْعَدْلِ وَالْفَضْلِ وَالشَّيْءِ النَّافِعِ وَضِلُّهُ الشَّرُ یعنی خیر اس چیز کو کہتے ہیں جس کے حصول کا سارے کے سارے لوگ بلا استثناء ارادہ کریں۔پھر رغبت کے معنوں میں ارادہ اور محبت ہر دو مفہوم پائے جاتے ہیں اس لئے خیر کے معنی ہوں گے۔وہ چیز جو تمام بنی نوع انسان کی محبوب ہو جیسے مثلاً عقل ہے۔اب دنیا میں کوئی انسان یہ نہیں کہے گا کہ مجھے عقل نہیں چاہیے میں تو بیوقوف اور احمق بننا چاہتا ہوں پھر انصاف ہے دنیا کا