خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 73
خطبات ناصر جلد دہم ۷۳ خطبہ عیدالفطر ۱٫۱۸ کتوبر ۱۹۷۴ء ہماری زبانوں پر خدا تعالیٰ کی حمد کے ترانے ہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ خواہ ہم ساری عمر ہر آن اور ہر لحظہ خدا کے حضور جھکے رہیں اور اس کی حمد کے ترانے گاتے رہیں ، تب بھی ہم اس کا کما حقہ، شکر ادا نہیں کر سکتے لیکن ایک اور پہلو ہے جو ہمیں یہ احساس دلا رہا ہے کہ وہ آخری خوشی ، وہ پوری ، کامل اور مکمل عید جو نوع انسانی کے لئے مقدر ہے ، وہ ابھی انسان کو نہیں ملی۔اس کے لئے ابھی قربانیوں کی ضرورت ہے وہ قربانیاں نہ تو آسمان کے فرشتوں نے زمین پر آکر دینی ہیں اور نہ ان لوگوں نے دینی ہیں جنہوں نے اس حقیقت کو ابھی تک پہچانا نہیں۔یہ ہمارا دعویٰ ہے آپ کا بھی اور میرا بھی کہ خدا تعالیٰ نے مہدی اور مسیح علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور اب ان کے طفیل اور ان کی قائم کردہ جماعت کے ذریعہ ساری دنیا کے لئے ایک حقیقی عید مقدر ہے یہی وہ حقیقی عید ہے جس کی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُمت محمدیہ کو بشارت دی تھی اور یہی حقیقی خوشی ہے جس کا تعلق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات سے ہے کہ جس کی آسمان نے بھی تعریف کی اور زمین نے بھی۔جو انسان کا بھی محبوب بنا اور خدا تعالیٰ کا بھی۔خدا کرے آپ کے جھنڈے تلے تمام بنی نوع انسان جمع ہو جائیں یہ دن نوع انسان کے لئے حقیقی عید کا دن ہوگا۔یہ دن ضرور آئے گا سوائے چند لوگوں کے جو عشق محمدی کے اس دائرہ سے باہر رہ جائیں گے ان کے علاوہ نوع انسانی اپنی بہت بھاری اکثریت کے ساتھ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہوگی۔انشاء اللہ العزیز غرض یہ وہ بشارت ہے جو اس میں دی گئی ہے۔اس بشارت نے ہمارے لئے خوشی کے سامان پیدا کئے۔ہماری جدوجہد ہماری کوششیں اور ہماری دعائیں یہ ہیں کہ جس طرح اس بشارت نے ہمارے لئے خوشی اور عید کے سامان پیدا کئے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ اس بشارت کے پورا کرنے کے بعد نوع انسانی کے لئے بھی حقیقی عید کے سامان پیدا کرے۔اس غرض کے لئے دوست دعا ئیں کریں۔اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں اور اس کے حضور قربانیاں پیش کریں۔اس کے لئے خدا کی مخلوق یعنی نوع انسانی سے محبت کرنا سیکھیں اور اس سبق کو کبھی بھولیں نہیں کہ ہمیں کسی سے دشمنی نہیں۔ہمیں کسی سے نفرت نہیں ہم کسی کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہمارے