خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 74
خطبات ناصر جلد دہم ۷۴ خطبہ عیدالفطر ۱/۱۸ کتوبر ۱۹۷۴ء محبوب آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کے سامنے یہ اعلان کیا تھا إِنَّما أنا بشر مثْلُكُم (الكهف : ١١١) کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں۔اس اعلان کو ہم بھی اپنی زندگیوں میں دھراتے ہیں اور دنیا سے کہتے ہیں کہ بشر ہونے کے لحاظ سے خدا تعالیٰ کے پیارے بندوں اور ان لوگوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا جنہوں نے ابھی تک خدا تعالیٰ کا پیار حاصل نہیں کیا۔پس ہمارے دل میں ایک جلن ہے اور ایک تڑپ ہے کہ جس طرح ہم نے خدا تعالیٰ کی محبت اور پیار کو حاصل کیا ہے اسی طرح خدا کرے ساری دنیا اس کی محبت اور پیار کو حاصل کر لے اور یہی گویا ہمارے لئے عید ہوگی ایک بہت بڑی عید کہ جس کے ذریعہ سارے نوع انسانی کے لئے خوشحالی کے سامان پیدا کئے جائیں گے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جہاں تک ہماری اجتماعی زندگی کا تعلق ہے، ہمارے لئے عید نہیں۔ہمارے لئے عید ہے۔ہمارے لئے تو ہر روز عید ہے لیکن یہ آج کی عید کا دن جس میں دو عیدیں جمع ہو گئی ہیں ایک عید جو رمضان کے بعد آئی ہے اور ایک عید جو ہر ہفتہ آتی ہے یعنی جمعہ کی عید۔پس آج یہ دو عید میں جمع ہیں۔ظاہری طور پر دو خوشیاں جمع ہیں۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے روحانی طور پر دوخوشیوں کے سامان پیدا کرے ایک وہ خوشی جو جماعت احمدیہ کو بحیثیت جماعت خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے بعد ملے گی اور اب بھی مل رہی ہے ، اور ایک وہ خوشی جو نوع انسانی کو بحیثیت نوع انسانی ملے گی جس میں ہم بھی شریک ہیں۔خدا کرے یہ خوشی بھی جلد ملے۔خدا کرے ہماری زندگیوں میں نوع انسانی کو یہ عید نصیب ہو۔بہر حال جس طرح آج دو عید میں اکٹھی ہوگئی ہیں اسی طرح خدا کرے دنیا کے لئے بھی ، ہمارے لئے بھی ، جماعت احمدیہ کے لئے بھی جلد دو عیدیں اکٹھی ہو جائیں۔چونکہ ہمارے لئے روحانی طور پر عید ہے اس لئے یہ جو دنیا کے ابتلا اور امتحان ہوتے ہیں دراصل اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے بعد ان کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہوتی۔یہ تو ہمیں محسوس ہی