خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 849 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 849

خطبات ناصر جلد دہم ۸۴۹ خطبہ نکاح ۱۱ را پریل ۱۹۸۲ء بھی پڑھنے والا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنے دو نکاح خود پڑھے۔محترمہ آپا سارہ بیگم صاحبہ کا اور محترمہ آپا، مہر آپا، جو کہلاتی ہیں ان کا۔تو طاہرہ خان جو عبدالمجید خان صاحب کی صاحبزادی ہیں ان کا نکاح ایک ہزار روپے مہر پر مرزا ناصر احمد جو اس وقت بول رہا ہوں، سے قرار پایا ہے۔مکرم محترم عبد المجید خان صاحب! کیا آپ کو ایک ہزار روپے مہر پر اپنی بچی محتر مہ طاہرہ خان کا نکاح مجھ سے، مرزا ناصر احمد سے منظور ہے۔(اس موقع پر مکرم عبدالمجید خان صاحب نے کھڑے ہو کر کہا۔منظور ہے) اس ہزار کا قصہ یہ ہے کہ جب انہوں نے رشتہ منظور کر لیا تو میں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ منصورہ بیگم کا مہر ایک ہزار روپے تھا۔اس لئے اس سے زیادہ تو میں نے ایک پیسہ بھی نہیں کرنا انہوں نے کہا ٹھیک ہے پھر مجھے خیال آیا کہ جو نکاح فارم پر ان کا ایک ہزار تھا لیکن جب میں نے ادائیگی کی عملاً نو ہزار میں نے دے دیا۔تو کسی وقت شیطان وسوسہ ڈالے کہ آپ نے ایک ہزار کہا تھا تو ان کوتو نو ہزار دیا تھا۔تو پھر میں نے ان کے گھر کہلا کے بھیجا کہ یہ واقعہ ہوا ہے تو میں نو ہزا رلکھ دوں گا او پر تولڑکی والوں کی طرف سے مجھے جواب ملا کہ نہیں نو ہزار آپ نہیں لکھیں گے۔ایک ہزا ر ہی ہمیں چاہیے۔تو یہ ایک ہزا ر ہی رہا۔پھر آپ جانتے ہیں میرے اپنے جذبات اس وقت جانے والی کے لئے بھی بڑے تیز ہیں اور آنے والی کے لئے بھی۔خدا کرے جو اس کا حق ہے اس کا خاوند اسے ادا کر نے والا ہو۔تو میری ہمشیرہ امتہ الباسط انہی دنوں میں مجھے کہنے لگیں کہ میری امی کو تو حضرت صاحب بس جا کے رخصت کر والائے تھے اور اخبار میں چھپا ہوا ہے۔میں نے وہ اخبار کا Quotation ( کوٹیشن ) نکلوایا تو زیادہ روشنی ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے اس کے اوپر ڈالی کہ تانگے پر بیٹھ کے ( قادیان کی بات ہے ) ۷ رفروری ۱۹۲۱ء کو دو ہی گئے حضرت صاحب اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب۔اور یہ کچھ تاریخ نے پورا واضح نہیں کیا کہ حضرت اماں جان ) رضی اللہ عنہا ایک دومستورات کے ساتھ ، ساتھ گئیں یا علیحدہ گئیں۔بہر حال گئے وہاں، باتیں کیں۔واپس آگئے اور حضرت (اماں جان ) رضی اللہ عنہا انہیں رخصت کروا کے شام کے وقت گھر لے آئیں اور باسط نے یہ بھی بتایا کہ ایک جوڑا