خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 850 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 850

خطبات ناصر جلد دہم ۸۵۰ خطبہ نکاح ۱۱ را پریل ۱۹۸۲ء بری کا گیا تھا۔یہ اس لئے بتا رہا ہوں کہ جو آپ بدعتیں بیچ میں شامل کر رہے ہیں خدا کے لئے ان کو چھوڑیں۔تو میں نے لڑکی والوں سے کہا میں تو ایک جوڑا بری میں دوں گا اور اسی طرح آؤں گا۔نہ آپ ہمیں پانی کا پوچھیں۔نہ مجھے پسند آئیں گے بجلی کے چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے بلب، نہ جھنڈیاں۔سادگی کے ساتھ میں آؤں گا۔چند ہوں گے ساتھی میرے ساتھ اور وہاں بیٹھیں گے۔باتیں کریں گے اور دعا کریں گے اور دلہن کو لے آئیں گے۔تو آپس میں مشورہ کر کے انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔پھر وہ میری ایک اور ہمشیرہ ناصرہ بیگم یہی ایک جوڑا لینے گئی تھیں لاہور۔تو وہ تین لے آئیں یعنی ۱ + ۲ پھر میں نے ان کو کہا تین آگئے ہیں وہ بھیج دوں۔انہوں نے کہا نہیں۔ایک بھیجیں آپ۔تو ہم اس رسم کی تجدید کر رہے ہیں۔رسم نہیں حقیقت اور جو سادگی ہے اس کی تجدید کر رہے ہیں کہ بالکل سادگی کے ساتھ ایک ہزار روپیہ مہر اور ویسے ایک ہزار روپیہ مہر کا واقعہ بھی بتا دوں۔چند سال پہلے ۱۹۷۶ ء کی بات ہے مجھے خیال آیا میں نے منصورہ بیگم سے کہا کہ ہمارا مہر کیا ہے۔مجھے یاد ہی نہیں تھا اور انہوں نے کبھی ذکر نہیں کیا تھا۔وہ ہنس کر کہنے لگیں مہر کیا تھا؟ ایک ہزار روپے تھا۔تو پھر میں نے کہا ٹھیک ہے۔پھر اس وقت مجھے خیال آیا ورثے میں ہمیں ملے ہوئے تھے حضرت صاحب کی طرف سے حصص آٹھ ہزار روپے کے۔میں نے کہا پھر یہ دے دیتے ہیں plus جھو نگے میں۔پس اس سادگی کے ساتھ ( حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ) وہاں گئے ، لے آئے۔نہ کوئی شور نہ کچھ۔نہ ڈھول نہ ڈھمکا۔اور یہ وقت ہے ایک عظیم مہم کا۔اتنی بڑی لڑائی انسانی زندگی میں تلوار سے نہیں دلائل کے ساتھ اور دعاؤں کے ساتھ نوع انسانی کی تاریخ میں کبھی نہیں لڑی گئی ، جتنی آج لڑی جارہی ہے کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو بشارتیں ملی تھیں ، ان کے عروج کا زمانہ آ گیا۔اس وقت سب کچھ بھول کے ہمیں بس ہنستے مسکراتے خدا تعالیٰ کے فضلوں کے نتیجہ میں خوشیاں ہمارے چہروں سے یوں بہہ کے آ رہی ہوں جس طرح پہاڑ سے برفانی پانی کے نالے بہہ کے آرہے ہوتے ہیں اور آگے بڑھتے چلے جاؤ اور اتنا جہیز کم کیوں دیا۔میرے پاس