خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 848
خطبات ناصر جلد دہم ΔΙΑ خطبہ نکاح ۱۱ را پریل ۱۹۸۲ء اونچا نہیں۔اسی طرح سب کو رد کر دیا اور جب یہ رشتہ ان کے سامنے رکھا تو انہوں نے کہا کہ اتنا اونچا جو میں نے خواب میں دیکھا تھا اس کے مطابق تو یہی رشتہ ہوسکتا ہے۔پس اس طرح دوسری شرط بھی پوری ہو گئی۔اور والد نے میں سمجھتا ہوں تاریخ احمدیت کے لئے یہ نیک کام کیا کہ زبانی پوچھنے کی بجائے اپنی بچی کو ایک فقرہ لکھا کہ اس طرح تمہارا رشتہ آیا ہے اپنی رائے سے مجھے بتاؤ کہ تمہارا کیا خیال ہے۔تو اس نے اچھا خاصا بڑا جواب دیا جس کا مفہوم کچھ اس طرح بنتا ہے کہ مجھے کوئی بشارت دی جاتی تھی پھر چند دن خاموشی کے بعد بڑا اضطراب پیدا ہوتا تھا کہ قبول ہونے کے بعد میں کہیں رڈ نہ کر دی جاؤں تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بشارت مل جاتی تھی اور اس طرح دو ایک دفعہ ہوا۔اس واسطے مجھ سے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔مجھے تو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی تیار کیا ہوا ہے۔پس یہ بتانا اس لئے ضروری ہے کہ شیطان دماغ میں وسوسے بھی ڈالتا ہے۔تو عمر کا فرق اپنی جگہ ہے لیکن جس دل نے خدا اور اس کے دین کے لئے قربانی دینی ہو، وہ جذ بہ قربانی تو عمر کی طرف نہیں دیکھتا اور نہ اللہ تعالیٰ عمروں کی طرف دیکھتا ہے۔اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ اس بچی نے ،جس نے اس تفاوت عمر کے باوجود اس رشتہ کو قبول کیا ، بڑی ہمت اور عزم اور اخلاص اور خدا اور اس کے دین کے لئے محبت کا ایک اظہار کیا ہے۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کو آج کی طاقت سے بھی زیادہ طاقت اور استعداددے کہ وہ اپنے اس عزم پر قائم رہے اور جس غرض اور مقصد کے لئے آج کے نکاح کا اعلان ہوگا کہ جو میری ذمہ داریاں ہیں ان کی ادائیگی میں سہولت پیدا ہو اور وہ مدد دینے والی ہو اور میری ساتھی بن کر جہاں تک ممکن ہو انسانی طاقت میں وہ اس دنیا کے مردوں اور عورتوں کے لئے روشنی کے پھیلانے کا ذریعہ بنے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کر کے اپنی عاقبت بھی سنوار نے والی ہو اور دنیا کو راہنمائی دے کر ان کے لئے بھی جنت کے دروازے کھولنے والی ہو۔(آمین ) جس نکاح کا میں آج اعلان کرنے لگا ہوں وہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ہمارے خاندان کی تاریخ میں یہ تیسرا نکاح ہو رہا ہے کہ جو خود اس رشتہ کا دولہا بننے والا ہے وہ آپ ہی خطبہ نکاح