خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 63 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 63

خطبات ناصر جلد دہم ۶۳ خطبہ عید الفطر ۲۸/اکتوبر ۱۹۷۳ء کے ساتھ مومنانہ ایثار کا تعلق ہے۔ان خوشیوں کے ساتھ عاشقانہ جاں نثاری کا تعلق ہے۔ان خوشیوں کے ساتھ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہونے کے جذ بہ صادق کا تعلق ہے۔غرض ان خوشیوں کے ساتھ اسلام کو جیسا کہ وعدہ دیا گیا ہے ساری دُنیا پر غالب کرنے کے لئے ان انتہائی قربانیوں کے دینے کا تعلق ہے جن کا غلبہ اسلام کی مہم آج جماعت احمد یہ اور اس کے افراد سے مطالبہ کر رہی ہے۔پس عید تو دراصل بہت کچھ لینے کے بعد بہت کچھ مزید دینے کے لئے منائی جاتی ہے۔عید تو دراصل ایک نشان اور علامت ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے گذشتہ قربانیوں کے نتیجہ میں ہم نے کچھ حاصل کیا۔عید ہمارے اس عزم کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہم نے اپنے رب غفور اور رب کریم سے جو کچھ حاصل کیا اس میں زیادتی کے لئے ، اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو پہلے سے زیادہ حاصل کرنے کے لئے ہم پہلے سے زیادہ قربانی دیں گے اور ہم اس مقصد کے حصول کی جدو جہد کو تیز کر دیں گے جس مقصد کے حصول کے لئے مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت ہوئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا اور وہی ہماری عید ہے آپ فرماتے ہیں:۔یقیناً سمجھو کہ نصرت کا وقت آ گیا اور یہ کارو بارانسان کی طرف سے نہیں اور نہ کسی انسانی منصوبہ نے اس کی بناڈالی۔بلکہ یہ وہی صبح صادق ظہور پذیر ہوگئی ہے جس کی پاک نوشتوں میں پہلے سے خبر دی گئی تھی۔خدائے تعالیٰ نے بڑی ضرورت کے وقت تمہیں یاد کیا۔قریب تھا کہ تم کسی مہلک گڑھے میں جا پڑتے مگر اس کے با شفقت ہاتھ نے جلدی سے تمہیں اُٹھا لیا۔سو شکر کرو اور خوشی سے اُچھلو جو آج تمہاری تازگی کا دن آگیا۔خدائے تعالیٰ اپنے دین کے باغ کو جس کی راستبازوں کے خونوں سے آب پاشی ہوئی تھی کبھی ضائع کرنا نہیں چاہتا۔وہ ہر گز یہ نہیں چاہتا کہ غیر قوموں کے مذاہب کی طرح اسلام بھی ایک پرانے قصوں کا ذخیرہ ہو جس میں موجودہ برکت کچھ بھی نہ ہو وہ ظلمت کے کامل غلبہ کے وقت اپنی طرف سے نور پہنچاتا ہے۔کیا اندھیری رات کے بعد نئے چاند کے چڑھنے کے انتظار نہیں