خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 64 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 64

خطبات ناصر جلد دہم ۶۴ خطبہ عیدالفطر ۲۸/اکتوبر ۱۹۷۳ء ہوتے؟ کیا تم سلخ کی رات کو جو ظلمت کی آخری رات ہے دیکھ کر حکم نہیں کرتے کہ کل نیا چاند نکلنے والا ہے افسوس کہ تم اس دنیا کے ظاہری قانونِ قدرت کو تو خوب سمجھتے ہو مگر اس روحانی قانونِ فطرت سے جو اسی کا ہم شکل ہے بکلی بے خبر ہو۔اب دیکھو آپ کا یہ ارشاد کہ خدا تعالیٰ اپنے دین کے باغ کوجس کی راستبازوں کے خونوں سے آبپاشی ہوئی تھی کبھی ضائع کرنا نہیں چاہتا۔اور اسی طرح آپ کا یہ فقرہ کہ وہ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ غیر قوموں کے مذاہب کی طرح اسلام بھی ایک پرانے قصوں کا ذخیرہ ہو جس میں موجود برکت کچھ بھی نہ ہو“ قابل غور ہے۔حضرت مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت کے ساتھ وہ برکت جس سے امت مسلمہ کا ایک بڑا حصہ ہاتھ دھو بیٹھا تھا ، دوبارہ امت مسلمہ میں جماعت احمدیہ کوملی۔حضرت مہدی معہود علیہ السلام کے ذریعہ ایک ایسی قوم تیار ہوئی جس نے اس بات کا عزم کرلیا کہ وہ اسلام کے باغ پر پھر تر و تازگی کے سامان اسی طرح پیدا کرے گی جس طرح پہلوں نے اس باغ کو اپنے خونوں سے پہنچ کر اس کی تازگی اور خوبصورتی کا سامان پیدا کیا تھا۔ہماری یہ عید دو قربانیوں کے زمانہ کے درمیان آتی ہے لیکن ایک مومن کے چہرے پر پہلی اور مقبول قربانیوں کے نتیجہ میں پژمردگی اور تھکن کے وہ آثار نمودار نہیں ہوتے جو بسا اوقات دُنیا داروں کی کوششوں میں ناکامی کے بعد ان کے چہروں پر انسان کو نظر آتے ہیں نہ ہی مومن کے دل میں کوئی گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے یہ سوچ کر کہ اب اسے پہلے سے زیادہ قربانیاں دینی پڑیں گی بلکہ اللہ تعالیٰ کے عظیم فضلوں کے حصول کے بعد اور ان عظیم رحمتوں کے پالینے کے بعد جن کا حصول قربانیوں کا مرہونِ منت ہے مومن کے چہرہ پر وہی تازگی ، وہی بشاشت، وہی خوشی ، وہی خوشحالی کے آثار اور وہی اطمینان نظر آتا ہے جو اس کے چہرے پر ہونا چاہیے جو اپنی زندگی کا ہرلمحہ اپنے رب کریم کی گود میں گزارنے والا ہے۔اسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ تمہارے لئے دو جنتیں تیار کی گئی ہیں ایک جنت وہ ہے جس کا تعلق اسی دنیوی زندگی کے ساتھ ہے اور ایک جنت وہ ہے جس کا تعلق اُخروی زندگی کے ساتھ ہے یعنی ایک جنت وہ ہے جس میں جنت کے باوجود امتحان بھی ہیں ابتلا بھی ہیں اور آزمائش بھی ہیں۔