خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 62
خطبات ناصر جلد دہم ۶۲ خطبہ عید الفطر ۲۸/اکتوبر ۱۹۷۳ء نوع انسانی کی اصل عید تو اس سورج (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا طلوع تھا جو فاران کی چوٹیوں سے جلوہ گر ہوا۔جس نے ایک دنیا کو منور کیا اور جس کے نور کی شعاعوں نے اندھیروں سے ایک عظیم اور فاتحانہ جنگ لڑی اور ظلمات کو دور کر دیا۔مگر جیسا کہ مقدر تھا اور جیسا کہ پہلے سے خبر دی گئی تھی ، کچھ عرصہ کے بعد اگر چہ اندھیرے بادلوں نے اس سورج کی روشنی کو چھپا دینا تھا لیکن ایسی صورت میں یہ بشارت بھی دی گئی تھی کہ مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت کے ساتھ وہی ٹو راسی کے غلاموں کی وساطت سے دُنیا پر پھر طلوع ہوگا اور ساری دُنیا کو اپنی نورانی شعاعوں کی لپیٹ میں لے کر ظلمات کو ہمیشہ کے لئے دُور کر دے گا۔پس جماعت احمدیہ کی عید تو اس صبح صادق کے ظہور سے شروع ہوئی جس کی خبر پہلوں نے دی اور جس کی بشارت حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اُمت مسلمہ نے پائی۔اس صبح صادق کے ظہور کے ساتھ اسلام کی عید دُنیا پر نمایاں طور پر ظاہر ہوئی اور یہی ہمارے لئے خوشی منانے اور اچھلنے کودنے کا موقع ہے یعنی اس بات کے اظہار کا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جس طرح ہم نے پایا اور اُس کے پیار کو حاصل کیا۔اسی طرح نوع انسانی کے لئے الہی رحمت اور پیار کے حصول کے مواقع اب میسر آنے والے ہیں۔یہ صبح صادق کا ظہور اور ہماری عید کی ابتدا ہے اور اس صبح صادق کے ظہور کے بعد وہ زمانہ جب اسلام کا سورج اپنی پوری شان کے ساتھ نصف النہار تک پہنچ کر ساری دُنیا کو اپنی نورانی شعاعوں میں لپیٹ لے گا۔وہ ہماری عید کا عروج ہوگا۔یہ عیدیں تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس حقیقی عید کی طفیلی عیدیں ہیں۔اگر اسلام نہ ہوتا تو اس مبارک اور حسین شکل میں یہ عید میں بھی نہ ہوتیں۔پس ہماری یہ عید جسے ہم رمضان کے بعد مناتے ہیں یا حج کے موقع پر ہمارے لئے عید الاضحی کی شکل میں خوشی کا ایک اور موقع پیدا ہوتا ہے۔یہ خوشی کے مواقع تو اسی صبح صادق کے ظہور کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جس کا تعلق اس سراج منیر ( سے ) ہے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک وجود میں اپنے کامل انوار کے ساتھ دُنیا میں جلوہ گر ہوا۔مگر ان خوشیوں کے ساتھ قربانیوں کا تعلق ہے۔ان خوشیوں کے ساتھ بڑی ذمہ داریوں کا تعلق ہے۔ان خوشیوں