خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 61 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 61

خطبات ناصر جلد دہم 1 خطبہ عید الفطر ۲۸/اکتوبر ۱۹۷۳ء نوع انسان کی اصل عید اس سورج کا طلوع تھا جو فاران کی چوٹیوں سے جلوہ گر ہوا خطبہ عید الفطر فرموده ۱/۲۸ اکتوبر ۱۹۷۳ء بمقام مسجد اقصی ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔تمام بھائیوں اور بہنوں کو عید مبارک ہو۔اسلامی تعلیم کے حسن کے ساتھ اور اسی کی وجہ سے اسلامی تہواروں میں بھی ایک محسن او خوبصورتی نظر آتی ہے۔جمعہ کی عید کے علاوہ ہمارے لئے سال میں دو بار عید آتی ہے اور ہر دوعیدوں کا تعلق ایک مومن مسلم احمدی کی زندگی کے دو پہلوؤں سے ہے۔ایک وہ عید ہے جو بعض مخصوص عبادات کے بعد ماہ رمضان کے ختم ہونے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں عطا ہوتی ہے۔ایک دوسری عید ہے جو ایک دوسری قسم کی عبادات کے بعد ہمیں میسر آتی ہے۔گویا ہماری مومنانہ زندگی کے دو پہلوؤں سے ان دوعیدوں کا تعلق ہے۔اسلام میں خوشی کا فلسفہ یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب انسان پر مہربان ہو اور اُسے اللہ کا پیار اور اس کی رضا حاصل ہو جائے تو یہ اُس کے لئے حقیقی خوشی کا موجب ہے۔اس طرح اگر چہ ایک مومن کی زندگی کا ہر لمحہ ہی عید ہے لیکن بعض چیزوں کو نمایاں کیا گیا ہے تا کہ ہم اپنی زندگیوں کے اس دور میں جس میں سے ہم گزر رہے ہیں یا جس سے ہم غافل رہے اُس کا محاسبہ کرسکیں۔