خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 702 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 702

خطبات ناصر جلد دہم ۷۰۲ خطبہ نکاح ۱۷/ نومبر ۱۹۷۵ء والے ہیں انہیں سامنے رکھ کر اپنی نسل کو تیار کرتے اور انہیں آنے والے زمانہ کی ذمہ داریوں کے اٹھانے کا اہل بنانے کی کوشش کرتے ہوں۔پس جس زمانہ میں ہمارے آج کے بچے جوان ہوں گے اور ان کے کندھوں پر وہ ذمہ داریاں پڑیں گی جن کا آج ایک عام آدمی تخیل بھی نہیں کر سکتا لیکن ایک احمدی ایک عام انسان سے مختلف ہے یہ خدا تعالیٰ کی جماعت کا ایک فرد ہے جس نے گذشتہ پچاسی سال سے زائد عرصہ میں خدا تعالیٰ کی باتوں کو اپنی زندگیوں میں پورا ہوتے دیکھا ہے اور جو اپنے مستقبل کو علی وجہ البصیرت پہچانتا اور اس کے لئے تیاری کرنے والا ہے۔اس نقطۂ نگاہ سے شادیوں کے پھلوں کی تربیت ہونی چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس نور وفراست پر قائم رکھے اور ہماری نسلوں کو ان ذمہ داریوں کے نباہنے کا اہل بنائے جو آئندہ زمانوں میں نسلاً بعد نسل ان پر پڑنے والی ہیں۔اس وقت میں دو نکاحوں کا اعلان کروں گا۔مکرم چوہدری محمد اسلم صاحب ساکن سیالکوٹ جو آج کل ربوہ میں رہائش پذیر ہیں اور ویسے سیالکوٹ میں بھی ان کی سکونت ہے اور جماعت ہائے سیالکوٹ کے امیر بھی ہیں ان کی دو بچیوں کی شادی قرار پائی ہے۔ایک بچی طیبہ بیگم صاحبہ ہیں اور دوسری مبار کہ بیگم صاحبہ ، عزیزہ بچی طیبہ بیگم صاحبہ کا نکاح پانچ ہزار روپے حق مہر پر عزیزم زاہد محمود صاحب ابن مکرم چوہدری غلام نبی صاحب ساکن چک نمبر ۱۲۵الدھر ضلع لائلپور سے قرار پایا ہے اور عزیزہ بچی مبارکہ بیگم صاحبہ کا نکاح دس ہزار روپے حق مہر پر عزیزم مکرم نعیم احمد صاحب ابن مکرم چوہدری منور احمد صاحب ساکن لا ہور چھاؤنی سے قرار پایا ہے۔ایجاب وقبول کے بعد اور اجتماعی دعا سے پہلے حضور انور نے فرمایا:۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان رشتوں کو مبارک کرے اور ہر دو جوڑے جو اس وقت نکاح کے بندھن میں باندھے گئے ہیں ان کی زندگیاں خدا تعالیٰ کی نگاہ میں خوشی اور خوشحالی سے گذرنے والی ہوں اور ہر دو خاندانوں اور ساری جماعت کے لئے اللہ تعالیٰ ان رشتوں کو مبارک کرے۔آؤ دعا کر لیں۔روزنامه الفضل ربوه ۲۶ نومبر ۱۹۷۵ صفحه ۳)