خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 700 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 700

خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح ۲۷ مارچ ۱۹۷۵ء اور ہماری نگاہ میں انسان کی نگاہ میں انہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی بہت خدمت کی توفیق ملی۔ہم امید رکھتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں اور ہماری دعائیں ہیں کہ جو ہماری نگاہ نے دیکھا وہی دیکھا ہو جو اللہ تعالیٰ نے قبول کیا۔وہ اپنے گھر میں اور اپنے رشتہ داروں اور بچوں کے لئے ایک قابل تقلید نمونہ تھے۔وہ تو اللہ کو پیارے ہو گئے اور ہم جو اللہ تعالیٰ کے پیار کی توقع پر اور پیار کے جلووں کو مشاہدہ کرتے ہوئے یہاں زندگی گزار رہے ہیں ہماری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے شمس صاحب کے لڑکوں کو بھی اور لڑکیوں کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور ایک خادم دین نسل ان بچوں کے رشتے سے دنیا میں پیدا ہو اور وہ بھی مقبول قربانیاں کرنے والی ہو یعنی ایسی قربانیاں جنہیں اللہ تعالیٰ قبول کر لیتا ہے۔اسی طرح ہر احمدی لڑکے اور لڑکی کے لئے بھی ہماری یہ دعا ہے اور ہماری یہ توقع بھی ہے کہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عظیم ذمہ داری جماعت احمدیہ پر نسلاً بعد نسل ڈالی گئی ہے یعنی یہ کہ پرنہ ہر ایک کو اپنی استعداد کے مطابق انتہائی کوشش کرتے چلے جانا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس آخری شریعت اور آپ کے دین کو دنیا میں غالب کرے۔دینِ اسلام دنیا میں غالب ہو جائے اور نوع انسانی اپنے رب کریم کو پہچاننے لگے اور اپنے محسن اعظم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔ہمارے اوپر یہ عظیم ذمہ داری ہے۔خدا کرے اس کا احساس بھی قائم رہے اور اس کے مطابق عملی جذبہ بھی ہمیشہ پیدا ہوتا رہے۔اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق سے ایسا ہوسکتا ہے۔ایجاب وقبول کے بعد ان رشتوں کے بہت ہی بابرکت ہونے کے لئے حضور انور نے حاضرین سمیت دعا کروائی۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )