خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 691 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 691

خطبات ناصر جلد دہم ۶۹۱ خطبہ نکاح ۲۲ دسمبر ۱۹۷۴ء صدی ہے غلبہ احمدیت کی نہیں بلکہ غلبہ اسلام کی صدی ہے کیونکہ بانی احمدیت نے فرمایا ہے۔وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے احمدیت تو کسی مذہب کا نام نہیں اور یہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔اصل چیز اسلام ہی ہے۔حقیقت میں دین محمدی ہی ہے جس کی آبیاری کے لئے احمدیت قائم ہوئی ہے۔پس جب میں غلبہ اسلام کی صدی کہتا ہوں تو اس سے میرا یہی مقصد ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا غلبہ ہوگا۔قرآن کریم کی شریعت کا غلبہ ہو گا اور اس کے لئے اگلی صدی مقرر ہے اگلی صدی ایک نسل کی صدی تو نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کے نو جوانوں نے اپنے کندھوں پر اس اگلی صدی کی ذمہ داریوں کے بوجھ کو نسلاً بعد نسل اٹھاتے چلے جانا ہے اور خدا کی راہ میں قربانیاں دیتے چلے جانا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی پیروی میں دنیا کو نیک نمونہ دکھاتے چلے جانا ہے تب جا کر ہماری ذمہ داریاں ادا ہوں گی اور ہمارا خدا ہم سے خوش ہوگا۔یہی وہ اصل مضمون ہے جس کی طرف میں اس خطبہ نکاح کے ذریعہ جماعت احمد یہ بالخصوص نو جوانوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔اس لئے کہ ہر نکاح کے اعلان کے وقت انسان کے ذہن میں دو باتیں آتی ہیں۔ایک تو یہ کہ ہماری ایک اور نسل جوان ہوگئی جس کے کندھوں پر بوجھ پڑ رہا ہے۔اب آئندہ اس نسل نے ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے اور دوسرے یہ کہ نکاح کے اعلان کے ساتھ ہی ایک اور نسل کی بنیاد رکھی جارہی ہے یعنی نکاح کے نتیجہ میں جو بچے پیدا ہوں گے وہ گویا ایک اورنسل ہوگی۔اس لئے ایسے موقع پر بھی بڑی دعا ئیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اور آنے والی نسلوں کو بھی آخر وقت تک اور مرتے دم تک خدمت دین کی توفیق عطا کرتا چلا جائے۔خدا کرے ہمیں ایسے کام کرنے کی توفیق عطا ہو جو اسلام کو غالب کرنے والے اور ہمارے لئے اس کی رضا کے حصول کا باعث بننے والے ہوں۔پس جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے نکاح کے موقع پر ہم یہی اعلان کرتے ہیں کہ ہماری نسل کا ایک حصہ جوان ہو رہا ہے۔ہماری جوان نسلوں کو اللہ تعالیٰ خدمت دین اور رضائے الہی کے حصول کی توفیق دے اور ان کے بعد آنے والی جس نئی نسل کی آج بنیا د رکھی جا رہی ہے وہ بھی اس